اناڑی ڈرائیور کو گاڑی دیتے نہیں، ایٹمی ملک حوالے کر دیا، احسن اقبال: قوم امیج بہتر بنائے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
سیالکوٹ (نامہ نگار/نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی و اصلاحات چوہدری احسن اقبال نے کہا کہ اپنے خوابوں کو عملی جامہ جس طرح سیالکوٹ کے لوگ پہناتے ہیں اور کوئی نہیں کر سکتا اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سیالکوٹ کا ایک نام اور پہچان ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن میں بطور مہمان خصوصی مقامی برآمد کنندگان و درآمد کنندگان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پروزیر دفاع خواجہ محمد آصف، رکن صوبائی اسمبلی چوہدری فیصل اکرام، سلطان ٹیپو، سٹی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) محمد رفیق مغل، چیئرمین پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اعجاز احمدکھوکھر، چیئرمین سرجیکل ایسوسی ایشن ذیشان طارق، ڈائریکٹر ائیر سیال حافظ جنید، سابق صدر چیمبر ماجد رضا بھٹہ، سابق نائب صدرخواجہ عابد سمیت کثیر تعداد میں صنعتکار بھی موجود تھے۔ چوہدری احسن اقبال نے کہا کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی نے جس طرح فٹبال سلائی کر کے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا بالکل اسی طرح وزیراعظم کے اڑان پاکستان منصوبے کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ اور اسے کامیاب بنانا ہے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ 1960ء پاکستان کی مجموعی دو سو ارب ڈالر کی ایکسپورٹ تھی لیکن آج دیگر ممالک ہم سے بہت بہتر ایکسپورٹ میں زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ 90ء کی دہائی میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو روکا نہ جاتا اور انہیں 10 سال مل جاتے تو آج پاکستان ملائیشیا سے آگے ہوتا اسی طرح 2018 میں اسی اڑان کو پھر سے ختم کر دیا گیا۔ اناڑی کو حکومت دے دی گئی جس نے کبھی ایک یونین کونسل کو بھی نہیں چلایا تھا اور پھر اس کے چار سالہ دور حکومت میں ملک کا جو برا حال ہوا اس کا خمیازہ آج تک ہم سب بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنی گاڑی کسی اناڑی ڈرائیور کو نہیں دیتے تو پھر ایک ایٹمی ملک کو کسی اناڑی کے حوالے کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ بزنس کمیونٹی کے تعاون سے پاکستان کی ایکسپورٹ کو بڑھاتے چلے جائیں گے اور اس ضمن میں سیالکوٹ چیمبر آف کامرس وزیراعظم کے اُڑان پاکستان پروگرام کا کو پارٹنر ہو گا۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی اپنے بنک کا آغاز کرے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بطور قوم اپنے امیج کو بہتر بنانا ہو گا، پاکستان میں سوا دو کروڑ فقیر ہیں جن کی آمدن 42 ارب ہے ملک میں بڑھتی ہوئی فقیروں کی تعداد کی وجہ سے ہماری دنیا میں ساکھ متاثر ہو رہی ہے جو کہ خطرناک صورتحال ہے۔ ایسی کیفیت میں کس طرح دیگر ممالک ہمیں اکاموڈیٹ کریں گے۔ وزیر دفاع نے مقامی برآمد کنندگان و درآمد کنندگان کے مسائل سن کر ان کے حل کیلئے اہم و ٹھوس اقدامات کی یقین دہانی کروائی۔آئی این پی کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جس قسم کی ڈکیتی آئی پی پیز نے کی۔ اس میں بڑے بڑے نام ہیں، پاکستان کو درپیش ویزا مسائل کی ایک بڑی وجہ ملک میں فقیروں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے، سعودی عرب میں 4700 پاکستانی بھکاری پکڑے گئے، اس سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے۔ سیاست دانوں کی ذ مہ داری ہے کہ ملک کو بدنام ہونے سے بچائیں۔ سعودی عرب میں اس وقت چھ ہزار کے قریب افراد وزٹ ویزے پر جا کر بھیک مانگ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مد کنندگان وزیر دفاع
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔