سپریم کورٹ: 9 مئی مقدمات میں صنم جاوید اور شیخ رشید کی بریت پر حکومت کو عدالت کا دو ٹوک پیغام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
سپریم کورٹ: 9 مئی مقدمات میں صنم جاوید اور شیخ رشید کی بریت پر حکومت کو عدالت کا دو ٹوک پیغام WhatsAppFacebookTwitter 0 22 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) سپریم کورٹ میں 9 مئی کے مقدمات میں نامزد صنم جاوید اور شیخ رشید کی بریت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت کے دوران معزز ججز نے حکومت کی قانونی پوزیشن پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ عدالت قانون سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی۔
صنم جاوید کیس
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پنجاب حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے صنم جاوید کو بری کر دیا، حالانکہ معاملہ صرف ریمانڈ کے خلاف تھا۔ تاہم جسٹس ہاشم کاکڑ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے پاس مکمل اختیارات ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اگر کسی کو صرف خط کے ذریعے ناانصافی کا خدشہ ہو، تب بھی عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ ’آپ کو ایک سال بعد یاد آیا کہ ملزمہ نے جرم کیا ہے؟‘، جبکہ جسٹس صلاح الدین نے وضاحت دی کہ کریمنل ریویژن میں ہائیکورٹ کے پاس سوموٹو اختیارات بھی ہوتے ہیں۔
عدالت نے شریک ملزم کے اعترافی بیان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’اس کی قانونی حیثیت کیا ہے، آپ کو بھی معلوم ہے‘۔
جسٹس ہاشم کاکڑ مے ریمارکس دئے کہ ہائیکورٹ کا جج اپنے فیصلے میں بہت آگے چلا گیا، ہائیکورٹ جج نے اپنا فیصلہ غصہ میں لکھا، ہم اس کیس کو نمتا دیتے ہیں۔
اور بالآخر مقدمے کی سماعت کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔
شیخ رشید کیس
اسی نوعیت کے ایک اور مقدمے میں جی ایچ کیو حملے کے کیس میں شیخ رشید کی بریت کے خلاف پنجاب حکومت نے وقت مانگا تاکہ شواہد پیش کیے جا سکیں۔ اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’التواء مانگنا ہو تو آئندہ اس عدالت میں نہ آنا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ التواء صرف جج، وکیل یا ملزم کے انتقال پر ہی دیا جا سکتا ہے، جبکہ سپیشل پراسیکیوٹر نے اعترافی بیانات پیش کرنے کی اجازت مانگی۔
جسٹس کاکڑ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’خدا کا خوف کریں، شیخ رشید پچاس بار ایم این اے بن چکا ہے، وہ کہاں بھاگ جائے گا؟‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا، ’زمین گرے یا آسمان پھٹے، اس عدالت میں قانون سے ہٹ کر کچھ نہیں ہوگا۔‘
عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پنجاب حکومت کو واضح پیغام دیا کہ قانونی تقاضے مکمل کیے بغیر محض سیاسی نوعیت کے دلائل قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچوہدری شفقت محمود کی تعیناتی نے فتح جنگ کو بدل کر رکھ دیا، عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ اسلام آباد میں تاریخ رقم: 35 روز میں انڈر پاس کی تعمیر کا آغاز وزیراعظم کا ملک میں سرمایہ کاری کرنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو سول ایوارڈ دینے کا اعلان پیپلز پارٹی کو منانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تمام کینال بنانے کا فیصلہ واپس لیں، شازیہ مری نفرت انگیز مہمات نہ رکیں تو ملک میں سیاسی قتل بھی ہوسکتا ہے، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے خبردار کردیا عمران خان سے منگل کو ملاقات کا دن، فیملی ممبران کی فہرست جیل انتظامیہ کو ارسال ٹیرف کے اعلان کے بعد تجارتی معاہدے پر مذاکرات، امریکی نائب صدر کا دورہ انڈیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شیخ رشید کی بریت صنم جاوید
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔