مائنز اینڈ منرلز مجوزہ ایکٹ پر پی ٹی آئی منقسم، کیا علی امین گنڈاپور مجوزہ ایکٹ پاس کرا سکیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
خیبر پختونخوا مائنز اینڈ منرلز مجوزہ ایکٹ 2025 کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین تقسیم ہیں اور حکومت کی جانب سے ان کو راضی کرنے کے لیے طویل بریفنگ بھی بے نتیجہ ختم ہو گئی۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی جانب سے اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے لیے محکمہ مائنز اینڈ منزلز کی جانب سے بریفنگ دی گئی جس میں اراکین نے مجوزہ ایکٹ پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا اور ایکٹ کے ذریعے وفاق اور وفاقی اداروں کو صوبائی معمولات میں مداخلت کا اختیار دینے کا بھی الزام لگایا۔ بریفنگ میں حکام نے مائنز اینڈ منرلز بل 2017 اور مجوزہ ایکٹ 2025 کا موازنہ کیا۔
‘تحفظات دور نہیں ہوئے’بریفننگ لینے والے پی ٹی آئی کے اراکین نے موقف اپنایا کہ بدستور ان کے تحفظات برقرار ہیں اور بریفنگ سے وہ مطمئن نہیں ہوئے۔ پی ٹی آئی کے ایک رکن صوبائی اسمبلی نے بتایا کہ مجوزہ ایکٹ کابینہ سے منظور ہوا ہے لیکن کابینہ ممبران کو اس کے بارے میں مکمل معلومات نہیں۔ ‘ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ یہ بل کس نے تیار کیا ہے اور اس میں وفاق اور کچھ اداروں کو اختیارات کیوں دے جا رہے۔’
انہوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق مجوزہ بل ڈرافٹ ہو کر صوبے کو دیا گیا، ہمیں خدشہ ہے کہ صوبے کے معدنی وسائل پر وفاق کنٹرول حاصل کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ بل کے کچھ نکات ہیں جس کا تسلی بخش جواب نہیں دیا جا رہا اور وہ اس پر اسمبلی میں بھی بات کریں گے۔
‘عمران خان کی منظوری کے بغیر پاس نہیں ہو گا’مائنز اینڈ منزلز مجوزہ بل اسمبلی میں لانے کے بعد پی ٹی آئی واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور اندرونی معلومات کے مطابق 40 سے زائد اراکین نے کھل کر اس کی مخالفت کی ہے جبکہ کچھ ممبران خاموش ہیں جبکہ کابینہ اراکین علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہیں جو ذرائع کے مطابق اس بل کو پاس کرانے پہ بضد ہیں۔
قبائلی ضلع باجوڑ سے رکن خیبر پختونخوا اسمبلی انور زیب خان کھل کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ انور زیب نے بتایا کہ حکومت کچھ بھی کر لے جب تک عمران خان منظوری نہیں دیتے وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ قبائلی عوام کو اس مجوزہ بل پر شدید تحفظات ہیں اور وہ اسمبلی میں ان حقیقی نمائندگی کریں گے۔ ‘جب تک عمران خان کا پیغام نہیں آتا اور وہ بل پاس کرنے کا خود نہیں کہتے تب تک اس کو پاس ہونے نہیں دیں گے۔’
علی امین گنڈاپور مجوزہ بل پاس کرانے میں بضدپی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور مجوزہ بل پاس کرانے کے لیے بضد ہیں اور کابینہ ارکان کو اراکین کے تحفظات دور کرنے میں کردار ادا کرنے کی ہدایت بھی کی ہیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اگلی ملاقات میں علی امین بانی چیئرمین عمران خان کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے اور بل پر بریفننگ بھی دیں گے۔
اراکین کو بریفنگ کے بعد وزیر قانون آفتاب عالم نے میڈیا کو بتایا کہ مجوزہ بل کو پاس کرنے میں حکومت کو کوئی جلدی نہیں ہے اور پہلے اپوزیشن سمیت حکومتی اراکین کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مجوزہ بل میں ترمیم کے لیے بھی تیار ہے۔ ‘اگر مجوزہ بل میں ترمیم کی ضرورت پڑی تو کریں گے۔ اسمبلی میں اس پر بحث کریں گے۔’
پارلیمانی امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی محمد عمیر نے کہا کہ علی امین گنڈاپور مجوزہ بل کو پاس کرانے کے حوالے سے مطمئن نظر آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بل پاس ہوگا ۔ ‘علی امین وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کے فنڈز اور اختیارات ہیں وہ اپوزیشن کو بھی ملا سکتے ہیں۔’
عمیر نے بتایا کہ عمران خان تک ہر ایک کی رسائی نہیں ہے اور نہ وہ ہر کسی کی بات سنتے ہیں، بس علی امین کے لیے راستہ صاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پی ٹی آئی منقسم ضرور ہے لیکن علی امین سب کو منالیں گے اور آئندہ اجلاس میں اس پر بحث ہو گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
KPK پائنز اینڈ منرلز خیبرپختونخوا معدنیات وسائل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پائنز اینڈ منرلز خیبرپختونخوا معدنیات علی امین گنڈاپور مجوزہ انہوں نے کہا کہ نے بتایا کہ اسمبلی میں مجوزہ ایکٹ اینڈ منرلز مائنز اینڈ پاس کرانے پی ٹی آئی کے مطابق کریں گے ہیں اور کو پاس ہے اور کے لیے بل پاس
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم