Daily Ausaf:
2026-06-02@23:19:10 GMT

چیٹ جی پی ٹی نے خاتون کے کمرے کا نقشہ ہی بدل دیا

اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک)آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک معاون، رہنما اور تخلیقی شراکت دار بن چکی ہے۔ اسی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کامیا گپتا، جو بھارت سے تعلق رکھنے والی ایک کاروباری خاتون اور اے آئی کو استعمال کرتی ہیں۔ کامیا نے اپنے کمرے کی سجاوٹ کے لیے نہ کسی ماہر ڈیزائنر سے رابطہ کیا، نہ ہی کوئی مہنگی سروس لی، بلکہ انہوں نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کو اپنا ورچوئل انٹیرئیر ڈیزائنر بنایا اور ایک خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔

یہ منفرد سفر ایک سادہ پیغام سے شروع ہوا۔ کامیا نے چیٹ جی پی ٹی کو ایک میسج بھیجا، ’ کیا آپ میرے انٹیریئر ڈیزائنر بن سکتے ہیں؟’ اور پھر چیٹ کا یہ سلسلہ ایک شاندار تبدیلی میں بدل گیا۔

چیٹ جی پی ٹی نے کمرے کے لے آؤٹ، تھیم، اور سجاوٹ کے لیے خیالات پیش کیے۔ اس نے کامیا کی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے آئیڈیاز دیے جنہوں نے ان کے خوابوں کو عملی شکل دے دی۔

کامیا کا خواب اور ضرورت تھا ایک سادہ، پر سکون، مگر ذاتی انداز کا گوشہ۔ کامیا نے اپنے ویڈیو میں بتایا کہ یہ کمرہ صرف ان کی پسند کے مطابق ہی نہیں بلکہ، ان کے والدین کے لیے بھی ایک خاص تحفہ تھا۔

چیٹ جی پی ٹی نے انہیں مشورہ دیا کہ لکڑی کے فرش کے ساتھ مطابقت رکھنے کے لیے دیواروں پر ارتھ ٹون کا استعمال کریں۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنے کمرے کو اپنے منتخب یا پسندیدہ انداز میں تبدیل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، جہاں یادوں سے جڑے فریم، آرٹ ورک، اور سادہ لیکن دلکش اشیاء شامل ہوں۔

کامیا نے چیٹ کے دوران اپنے خیالات، فرنیچر اور لائٹنگ کی تصاویر بھی شیئر کیں، جنہیں اے آئی نے کمرے کے خاکے میں خوبصورتی سے سمو دیا۔

چیٹ جی پی ٹی نے نہ صرف رنگوں کا انتخاب کیا بلکہ وال آرٹ کی پلیسمینٹ، فرنیچر کی ترتیب، اور نیون سائن بورڈ جیسے تخلیقی عناصر کو بھی بڑی خوبصورتی سے شامل کیا۔

View this post on Instagram

A post shared by Kamya Gupta (@kamyaguptaa)


یادگار لمحہ، والدین کی حیرت

جب کامیا نے اپنے والدین کو مکمل طور پر بدلے ہوئے کمرے کا سرپرائز دیا، تو ان کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کا امتزاج دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جو صرف ایک کمرے کی سجاوٹ نہیں بلکہ ایک بیٹی کی محبت، تخلیق، اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جڑی کہانی بن گیا۔
کامیا نے ویڈیو کیپشن میں جذباتی انداز میں لکھا، ’Honestly, this is insane‘ ایک خیال جو برسوں سے میرے ذہن میں تھا، صرف ایک چیٹ کے ذریعے حقیقت بن گیا۔اے آئی نے مجھے سیکھنے اور جاننے کے نئے زاویے دکھائے۔ یہ سب اپنے والدین کے لیے کیا، ان کا ردعمل سب سے خوبصورت تھا۔ اپنی تمام یادوں کے ساتھ اپنا ذاتی گوشہ بنا لیا ہے۔ میں شکر گزار بھی ہوں اور اے آئی سے تھوڑا خوفزدہ بھی!’

سوشل میڈیا پر دھوم، وڈیو وائرل

یہ ویڈیو وائرل ہوگئی، اور صارفین نے کامیا کی تخلیقیت اور اے آئی کے استعمال کو خوب سراہا۔

ایک صارف نے کہا، ’ گرل، آپ نے چیٹ جی پی ٹی کو صحیح طریقے سے استعمال کیا.

. اور یہ واقعی آپ کی انٹیرئیر ڈیزائنر بن گئی۔’

دوسرے نے تحسین آمیز جملہ لکھا کہ، ’آپ کے تحمل کے لیے آپ کا شکریہ، یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ لوگ گبلی کے لیے چیٹ جی پی ٹی پر چھلانگ لگانے کے بجائے اے آئی کو ہوشیاری سے استعمال کرتے ہیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا، ’اے آئی کا بہترین استعمال میں نے تھوڑی دیر پہلے دیکھا ہے۔‘

واقعی، اے آئی نے دنیا بدل دی ہے۔ اب یہ صرف ایک چیٹ بوٹ نہیں، بلکہ تخلیق کرنے، سیکھنے، اور جذبات کو سمجھنے والا ساتھی بن چکا ہے۔اور اب… آپ کا انٹیرئیر ڈیزائنر بھی۔
مزیدپڑھیں:انٹرا پارٹی انتخابات: بیرسٹر گوہر سنی اتحاد کونسل میں تھے، پی ٹی آئی سربراہ کیسے بنے؟ الیکشن کمیشن

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی نے کامیا نے صرف ایک کے ساتھ نے اپنے کے لیے اے آئی

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور