اسلام آباد:

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ ترمیمی بل 2024 منظور کر لیا۔

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بل پر بحث کے دوران وزارت قانون نے کہا کہ چند ممالک میں پاکستانیوں کو شہریت ملتی تھی تو ان کو پاکستان کی شہریت چھوڑنی پڑتی تھی، ایسے افراد کی پاکستانی شہریت بحال کرنے کے لیے ترمیم لا رہے ہیں۔

ڈی جی پاسپورٹس مصطفیٰ جمال قاضی نے کہا کہ 22 ممالک کے ساتھ پاکستان کے دوہری شہریت کے معاہدے نہیں تھے، ان ممالک کے ساتھ پاکستان کے معاہدے ہو چکے ہیں جس کے بعد پاکستانی شہریوں کو دہری شہریت میں پاکستانی شہریت چھوڑنی نہیں پڑے گی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس بل میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، پاکستانی شہریوں کو شہریت ملنی چاہیے۔

اسلام آباد میں ترقیاتی کام

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اجلاس کی صدارت رکن قومی اسمبلی راجہ خرم نواز نے کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد کے حلقوں میں سڑکوں کی تعمیر پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ بہت سے حلقوں میں سڑکوں کی تعمیر پر کام شروع کر دیا گیا ہے، سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 250 ملین کا فنڈ رکھا گیا۔

رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے صاحب غلط بیانی کر رہے ہیں، کسی بھی حلقے میں کام شروع نہیں ہوا۔

اسلحہ لائسنس پر کمیٹی کو بریفنگ

اسلحہ لائسنس کے معاملے پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ اسلحہ لائسنس تمام صوبے بنا رہے ہیں، پہلے اسلام آباد میں بہت زیادہ لائسنس بنے جن میں کچھ غیر مناسب چیزیں بھی سامنے آئی ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ ایم این ایز کو ایک لائسنس وزیراعظم کی منظوری سے دیں گے، ممنوعہ بور کا لائسنس کھولا ہے لیکن وہ ہم بہت ہی کم دیں گے۔ اراکین پارلیمنٹ کے تجویز کردہ لوگوں کو محدود پیمانے پر ممنوعہ بور کے لائسنس دیں گے۔

انسانی اسمگلنگ پر بحث

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے معاملے پر پاکستان کا نام بدنام ہو رہا ہے، پاکستان سے کوئی بھی شخص جعلی پاسپورٹ پر نہیں باہر جا سکتا۔

انہوں نے بتایا ک 200 سے زائد انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ایف آئی اے کے کئی لوگوں کو نوکریوں سے بھی برخاست کیا گیا ہے، وزیراعظم نے ایف آئی اے کے افسر کو تین ممالک میں بھی بھیجا۔

سیکریٹری داخلہ آغا خرم علی نے بتایا کہ ہم نے پچھلے چند ماہ میں بڑے انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا ہے۔

پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی زرتاج گل نے کہا کہ کشتیوں پر جو لوگ جاتے ہیں اور سعودیہ میں گینگ بھیک مانگنے کے لیے جاتے ہیں، بہت سے گلف ممالک نے ڈی جی خان کو بین کر دیا ہے، انسانی اسمگلنگ پر ہمیں تفصیلی بریفنگ دیں۔

رکن کمیٹی سیدہ نوشین نے سوال کیا کہ کیا بھیک مانگنے والے جب پاکستان واپس آتے ہیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے؟

سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ ہمیں سعودی عرب نے 4300 کی لسٹ دی ہے، ہم ان 4300 لوگوں کو واپس لا چکے ہیں اور ان کے پاسپورٹ بلاک کیے جا چکے ہیں۔

جمشید دستی نے کہا کہ ایف آئی اے کے لوگ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، ڈی جی بدلںے سے کام نہیں چلے گا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ انٹرنیشنل انسانی اسمگلنگ کانفرنس میں پاکستانی ایف آئی اے کے کام کی تعریف کی گئی ہے، اپنے اداروں کو ہی زیادہ بدنام نا کیا جائے۔ سعودی عرب اور یو اے ای نے بھکاریوں کی شکایت کی ہے، ہم ان لوگوں کو واپسی پر سزا دینے کے لیے قانون بھی لا رہے ہیں۔

جمشید دستی نے کہا کہ یہ تو آپ ادارے کو کلین چٹ دے رہے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے کہا کہ یہاں سے یہ لوگ ویزا اور پاسپورٹ پر پاکستان سے نکلتے ہیں، کشتی حادثات میں بھی یہ لوگ پاکستان سے قانونی طریقوں سے باہر نکلے۔

رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ میں جمشید دستی صاحب کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، ایف آئی اے کے لوگ کتنے دوہری شہریت رکھتے ہیں وہ چیک کیا جائے، چیک کیا جائے کہ یہ ایف آئی اے کے کتنے لوگ ایک ایک سال کی چھٹی لے کر جاتے ہیں۔

سینیٹ ہاوسنگ سوسائٹی کے معاملے پر کمیٹی میں بحث

نبیل گبول نے کہا کہ بتایا جائے سینیٹ ہاوسنگ سوسائٹی پر کس نے اسلحہ کے ساتھ قبضہ کیا ہے؟

چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ میں نے ان دونوں پارٹیوں کو سنا ہے اس پر میں نے فیصلہ دیا، اس پر ایک پارٹی ہائیکورٹ چلی گئی اور ہائیکورٹ نے چیف کمشنر آفس کے فیصلے کو کالعدم کرکے ریکارڈ منگوایا تھا، جو رپورٹ ہم نے عدالت میں جمع کروائی تھی وہ ہمیں بھی دے دیں۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سینیٹ ہاوسنگ سوسائٹی کا معاملہ آئندہ بتا دوں گا، ہمارے ہوتے ہوئے کوئی بھی قبضہ نہیں کر سکتا۔

چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ جیسے اداروں کی سوسائٹی کی زمین پر قبضہ ہو جائے تو کیا ہوگا؟ ہمیں ان دونوں سوسائٹیوں پر ہونے والی پیشرفت پر بتائیں۔

جمشید دستی نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد کے 2عہدے ایک شخص کے پاس ہیں، ان میں سے ایک عہدہ ان کے پاس رہنے دیں۔

پاسپورٹس اتھارٹی کا معاملہ

پی ٹی آئی کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل وزیر نے پاسپورٹس اتھارٹی کا معاملہ کمیٹی میں اٹھا دیا۔

زرتاج گل نے کہا کہ ڈی جی پاسپورٹس بیٹھے ہیں بہت اچھا کام کر رہے ہیں، یہ حکومت پاکستان کو سالانہ بڑی کمائی کر کے دیتے ہیں، جو محکمہ اپنی کمائی خود کرتا ہے تو ان کی اپنی اتھارٹی بنائی جائے، اگر نادرا کی اتھارٹی بن گئی تو پاسپورٹس کی بھی اتھارٹی بننی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کمیٹی برائے داخلہ چیئرمین سی ڈی اے انسانی اسمگلنگ چیئرمین کمیٹی ایف آئی اے کے میں پاکستان قومی اسمبلی اسلام آباد جمشید دستی نے کہا کہ نے بتایا بتایا کہ لوگوں کو رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن