بھارت میں اتنی جرات نہیں کہ وہ سرحدی خلاف ورزی کرے، وزیراعظم آزاد کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
مظفرآباد: آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا ہے کہ بھارت میں پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کرنے کی جرات نہیں تاہم اگر ایسا ہوا تو بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے چوہدری انوار الحق نے کہا کہ بھارت چانکیہ ڈاکٹرائن، بغل میں چھری منہ میں رام رام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، پہلگام واقعے میں بھارت کا جھوٹا بیانیہ بری طرح بے نقاب ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت بدامنی پھیلانے کے لیے آزاد کشمیر کے اندرچھپ کر تیسری قوت کو استعمال کر کے وار کرسکتا ہے، اگر بھارت نے ایسا ایڈونچرکرنے کی حماقت کی تو پھریاد رکھے کہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی آبی جارحیت ایک سال سے جاری ہے اور بھارت کی بین الاقوامی دہشتگری بارے دنیا جانتی ہے، مودی حکومت نے کینیڈا سے لے کر کشمیرتک بھارت دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا میں بے نقاب ہوچکا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ چند نادان دوستوں کو ہماری باتوں سے اختلاف تھا لیکن آج سوچئے کہ محافظ فوج کون سی ہے؟ اور قابض فوج کون سی ہے ؟ ہمارے پرچم کے پیچھے پاکستان کے پرچم کی طاقت ہے ورنہ ایل او سی کے پارآزاد کشمیر کا پرچم کہیں نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ جو جمہوری آزادیاں یہاں حاصل ہیں وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو دستیاب نہیں ہیں، الحمداللہ وزیراعظم آزاد کشمیر مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
چوہدری انوار الحق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے لیے جہاد پرکچھ دوستوں کو تکلیف ہوتی ہے، اس مقدس ایوان میں کھڑا ہو کرکہتا ہوں کہ پاکستان کے اندرسے بھی سیاسی پولرائزیشن کاخاتمہ کرناہوگا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے ایل او سی پر جارحیت کا ارتکاب کیا تواقوام متحدہ کا چارٹرہمیں دفاع کا حق دیتا ہے، یقین ہے کہ بھارت ایسے کسی بھی طرح کے پاگل پن کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور ویسے بھی سرحدی خلاف ورزی کرنے کی اُس میں جرات نہیں ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ مضبوط اورروشن پاکستان تحریک آزادی کشمیر کی ضمانت ہے، مسلح افواج پاکستان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونا ہمارا مذہبی اور ملی فریضہ ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت آبی جارحیت کا آغاز کرچکا ہے اور وہ پاکستان کے پانیوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، بھارت نے پونچھ اور دریائے نیلم کے پانیوں پرقبضے کے لیے اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔
چوہدری انوار الحق نے کہا کہ بھارت کے ہتھکنڈے اور دہشت گردانہ وارداتوں بارے بین الاقوامی ثبوت موجود ہیں، خطرے سے انکارنہیں کرنا چاہیے لیکن خطرے کا درست ادراک کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خطرے کوضرورت سے زیادہ سرپرسوار کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم بھرپور جواب دینے کیلیے ہمہ وقت تیار ہیں، پاکستان ایٹمی ملک ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چوہدری انوار الحق نے کہا نے کہا کہ بھارت انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ورزی کشمیر کے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔