انسان اب انسان کیوں نہیں لگتا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
انسان ہمیشہ سے موجود تھا،کائنات کے معرضِ وجود میں آنے سے قبل وہ اللہ تعالیٰ کے گمان میں تھا، انسان کو ظاہر عطا کرنے کے لیے خدا کریم نے سب سے پہلے دنیا کو اُس کے شایانِ شان تشکیل دیا پھر یہاں ہر اُس چیز کا اہتمام کیا جس کی ضرورت اُس کے بندے کو اپنے ارتقائی مراحل کے دوران پیش آنے والی تھی۔
ربِ کریم کے پاس گناہ، غلطی اور نافرمانی سے مبرا بہتیرے فرشتے موجود تھے، اس کے باوجود اُس پاک ذات نے انسان کو نہ صرف پیدا کیا بلکہ اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور تمام فرشتوں پر اپنی پسندیدہ تخلیق کو سجدہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ خالق کی نظر میں انسان کا مقام بہت بلند ہے، وہ پسند کرتا ہے، اپنے بندے کی خلوص میں رچی بسی عبادت جب کہ کمی نہیں تھی، رحمٰن و رحیم کے پاس ہمہ وقت عبادت میں مشغول فرشتوں کی ایک فوج کی لیکن اُس نے تخلیق کی ایسی مخلوق کی جو انکار کا اختیار رکھتے ہوئے اقرار کا حوصلہ کرے اور اپنے پروردگار کو آنکھوں سے دیکھے بغیر بھی اُس کے ہونے پرکامل یقین رکھے۔
جہاں ایک طرف انسان سے اُس کا خالق بے حد محبت کرتا ہے، وہیں ابلیس اپنے غرور و تکبر کے باعث شیطان بن بیٹھا۔ ازل سے انسان سے شدید پرخاش پالے ہوئے ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس سے کہا ’’ انسان کو سجدہ کرو تو وہ حکم عدولی کرکے نہ صرف نافرمانوں میں شامل ہوا بلکہ اُس نے خود سے عہد کیا کہ جلد رب کے بندے کو برائی کی جانب راغب کر کے اپنا جانشین بناؤں گا۔‘‘
رب العالمین نے ابلیس کو روزِ قیامت تک مہلت دی ہے کہ جاؤ جس حد تک جاسکتے ہو، انسان کو ورغلانے کے لیے جو فرد بہک گیا میں سمجھ جاؤں گا وہ میرا کبھی تھا ہی نہیں اور جو بندہ واقعی میں میرا ہوگا اُس کا تمہارے شکنجے میں آنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ نیکی اور بدی کے نظریے کی شروعات اُسی لمحے ہوگئی تھی، جب ابلیس شیطان کی صورت اختیار کرکے انسان کے مخالف کھڑا ہوگیا تھا، وہیں سے ہی اشرف المخلوقات کے امتحان کا بھی آغاز ہوا تھا۔
ابلیس کی مخالفت نے بدی کو جنم دیا اور آگے چل کر اسی بدی نے اچھائی برائی، صحیح غلط اور گناہ ثواب کا فرق پیدا کیا، یہ ایک فطری بات ہے کہ جو مقام جتنا اونچا ہوتا ہے اُس کو قائم رکھنا اُتنا ہی کٹھن ہوتا ہے، انسان کے ساتھ یہی ہوا مقام اعلیٰ ملا تو اُس کو سنبھالے رکھنے کے لیے سخت آزمائشوں سے گزرنا بھی ضروری ٹھہرا۔
اللہ تعالیٰ کی ہر بات میں حکمت و دانائی پنہاں ہوتی ہے جسے رب کے محبوب بندے سمجھ جاتے ہیں اور جو نہیں سمجھتے وہ ہمیشہ گھاٹے میں ہی رہنے والے ہیں، تخلیق کا خالق سے رشتہ مضبوط ہو تو وہ بھٹکتا ہے نہ بہکتا ہے اور بالفرض وہ کچھ دیرکے لیے قدرت کے منافی چلا بھی جائے تو واپس لوٹنے میں دیر نہیں کرتا۔ شیطان کا موجود ہونا انسان کا انسان رہنے کے لیے ضروری تھا، وہ محض امتحان کا ذریعہ تھا مگر یہیں بندے سے چُوک ہوگئی جس شر سے ایمان کی جنگ جیت کر اُسے غازی بننا تھا اُسی کا آلہ کار بن بیٹھا اور دنیا میں شرانگیزی پھیلانے لگا۔
ابتداء سے ہی خدا اور بندے کے تعلق کو کمزورکرنے کے لیے شیطان کمربستہ تھا مگر اصل میں انسان بشمول اپنی تمام حرکات و سکنات کے شرانگیزی میں ہر لحاظ سے شیطان کو پیچھے چھوڑتا ہوا رب سے دوری کی خود سب سے بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ ہر انسان بدی کی جانب مائل نہیں ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ہر فرد اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق ہے۔
انسانی تاریخ شیطان کا لبادہ اوڑھے انسانوں سے بھری پڑی ہے مگر ماضی میں برائی کو برائی ہی تصورکیا جاتا تھا اور بدانسان بدنام تھا۔ اس حوالے سے موجودہ دور انتہائی بدترین ہے کیونکہ اب صحیح غلط اور اچھائی برائی کے درمیان حائل لکیر مکمل طور پر مٹ چکی ہے اور تو اور اب گناہ کو گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا ہے۔ دنیا میں یہ ہولناک تبدیلیاں اچانک رونما نہیں ہوئیں، انسان کی فطرت کا اس میں بڑا دخل ہے، ہوس اور لالچ کی ابتداء دراصل بندے کی بے صبر طبیعت سے ہوئی اور یہی آگے جاکر ہر اُس برائی اور گناہ کی وجہ بنی جن میں آج کا انسان پوری طرح سے ملوث ہے۔
اب درج بالا تمام باتوں کے پیرائے میں موجودہ حالاتِ انسانی کا تفصیلی جائزہ لیں اور مشاہدہ کریں کون کہاں، کس طرح اورکتنا اپنی ساخت کی نفی کررہا ہے، انسان کوکیسا بنایا تھا اور وہ کیا بنتا جا رہا ہے، برائی سے منسوب شیطان کی ذات پہلے سے موجود تھی تو انسان اُس کی جگہ لینے پرکیوں باضد ہوچکا ہے۔
آج کے دور میں انسان کو دنیا کے نظام کو مثبت طریقے سے چلانے کے لیے بمعہ اپنی سوچ، روح اور جسم ’’ اشرف المخلوقات‘‘ کے خطاب کا اہل ہونا ماضی کی نسبت زیادہ اہم ہوچکا ہے۔ ہمارا حالیہ زمانہ جس رفتار سے آگے کی جانب رواں دواں ہے، وہ ہمیں اپنے شانہ بشانہ چلانے کے لیے بھٹکنے اور بہکنے کے مواقعے بھی گزرے وقتوں کے مقابلے میں بڑی تعداد میں مہیا کررہا ہے۔
سادہ الفاظ میں کہا جائے تو انسان اور شیطان بننا اب صرف اور صرف ہمارے ہاتھ میں ہے، ہمیں اپنا مقام پہلے سے معلوم ہے، ہم نیکی اور بدی کی سمت سے بھی واقفیت رکھتے ہیں اور خالق نے انسان کو نتائج سے روزِ اول ہی خبردارکردیا تھا۔ ان سب باتوں کے باوجود شیطان کی شاگردی چھوڑنا اگر انسان کو منظور نہیں تو پھر ایک لمحہ بھی ضایع کیے بغیر اپنی انسانیت پر فاتحہ پڑھ لینا اُس پر واجب ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اشرف المخلوقات انسان کو کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :