چین اور پاکستان 5 جی بیس اسٹیشن کے آلات کی آزمائش کر رہے ہیں، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 June, 2025 سب نیوز

اسلام آ باد :چینی میڈ یا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں سمارٹ اسٹریٹ لائٹس لگانے کے لیے چین کی جانب سے فراہم کیے جانے والے باریک شمسی مواد سے بنے پاور پینل استعمال کیے جا رہے ہیں۔

بدھ کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شینزین ڈی جے آئی کے ڈرونز نے صوبہ پنجاب میں کپاس کے تقریباً 16500 ایکڑ رقبے پر حشرہ کش دوا اسپرے کے تجربات مکمل کیے ہیں۔اسلام آباد کے مضافات میں چین اور پاکستان کی مشترکہ آر اینڈ ڈی بیس پر انجینئرز 5 جی بیس اسٹیشن کے آلات کی آزمائش کر رہے ہیں جو زیادہ درجہ حرارت والے ماحول کے لیے موزوں ہیں۔ کراچی بندرگاہ کے کارگو ٹرمینل پر چینی کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ لاجسٹکس مینجمنٹ سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے، وغیرہ وغیرہ .

حالیہ برسوں میں، چین-پاکستان تعاون کا دائرہ روایتی آبی تحفظ اور نقل و حمل سے کوانٹم کمپیوٹنگ اور بائیو فارماسیوٹیکل جیسے جدید ترین شعبہ جات تک پھیل گیا ہے. سائنسی اور تکنیکی کامیابیوں سے پاکستان کے عوام مستفید ہو رہے ہیں۔

تین روزہ دوسری بیلٹ اینڈ روڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایکسچینج کانفرنس صوبہ سچھوان کے شہر چھنگ ڈو میں منعقد ہو رہی ہے ۔ “جدت طرازی راہ کی تعمیر اور تعاون اور ترقی کا فروغ ۔بیلٹ اینڈ روڈ سائنس و ٹیکنالوجی انوویشن کمیونٹی کی تعمیر کے لئےمشترکہ اقدام” کے موضوع پر یہ کانفرنس “بیلٹ اینڈ روڈ” ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گی، تاکہ مستقبل میں مزید “سائنس اور ٹیکنالوجی کے پھول” وسیع علاقوں میں کھل سکیں۔ یہ نہ صرف عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے سائنسی اور تکنیکی مدد فراہم کرتی ہے ، بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم حصہ ہے۔ 2023 میں پہلی بیلٹ اینڈ روڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایکسچینج کانفرنس کے بعد سے چین نے دوسرے ممالک کے ساتھ ” بیلٹ اینڈ روڈ “سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انوویشن ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے ہاتھ ملایا ہے، سائنسی و تکنیکی اور افرادی تبادلے، مشترکہ لیبارٹریز کی تعمیر، سائنس اور ٹیکنالوجی پارکس میں تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مبنی چار اقدامات کو مضبوطی سے فروغ دیا ہے، اور پائیدار ترقیاتی ٹیکنالوجی، مقامی انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس اور ٹیکنالوجی سے انسداد غربت، جدت طرازی اور انٹرپرینیورشپ وغیرہ میں خصوصی تعاون کے پروگراموں کو آگے بڑھایا ہے۔

تمام فریقوں کی مشترکہ کاوشوں سے سائنسی اور تکنیکی تعاون کا طریقہ کار گہرا ہوا ہے، ممالک کے درمیان عوامی تبادلے قریب ہوئے ہیں اور جدت طرازی تعاون تیزی سے نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے۔اب تک، چین نے بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر میں شریک 80 سے زیادہ ممالک کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی تعاون پر بین الحکومتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی جدت طرازی تعاون کا ایک ہمہ جہت اور کثیر سطحی نیٹ ورک تشکیل دیا ہے، جس سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی اعلیٰ معیار کی ترقی میں جدت طرازی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے. اس کے علاوہ چین اور متعلقہ ممالک نے 70 سے زائد بیلٹ اینڈ روڈ مشترکہ لیبارٹریوں کی تعمیر کا آغاز کیا ہے اور 10 بین الاقوامی ٹیکنالوجی ٹرانسفر سینٹرز قائم کیے ہیں۔ نوجوان سائنسدانوں اور تکنیکی اہلکاروں کی تربیت کے لحاظ سے ، چین نے قلیل مدتی سائنسی تحقیق اور تبادلوں سمیت مختلف تربیتی کورسز منعقد کیے ہیں ، جس میں بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کے 80 فیصد سے زیادہ کا احاطہ کیا گیا ہے ، اور جدید زراعت ، زندگی اور صحت ، حیاتیاتی ماحول اور میٹریل سائنس جیسے بہت سے شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔مشترکہ تحقیق کے بڑھتے ہوئے شعبوں اور دائرہ کار اور بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کی سائنسی تحقیقی صلاحیتوں اور معیار میں مسلسل بہتری سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی سائنسی اور تکنیکی حمایت بیلٹ ایند روڈ ممالک کی معاشی اور سماجی ترقی میں مدد کر رہی ہے، اور مشترکہ تعمیر اور اشتراک کا تصور عوام کے دلوں میں گہری جڑیں پکڑ چکا ہے۔چین کو بخوبی ادراک ہے کہ بین الاقوامی سائنسی اور تکنیکی تعاون ایک وسیع رجحان ہے اور دنیا کے ساتھ اپنی سائنسی اور تکنیکی کامیابیوں کے اشتراک کا خواہاں ہے.

اس سال کے آغاز سے ، چین نے متعدد بڑے پیمانے پر اور اعلیٰ معیار کی بین الاقوامی نمائشوں کا انعقاد کیا ہے ، جیسے 2025 چونگ گوان چھون فورم کی سالانہ کانفرنس ، سلک روڈ انٹرنیشنل ایکسپو ، چین – سی ای ای سی ایکسپو ، ویسٹرن چائنا انٹرنیشنل ایکسپو ، وغیرہ۔ حالیہ برسوں میں چین نے ” گلوبل آرٹیفیشل انٹیلی جنس گورننس انیشی ایٹو ” بھی پیش کیا ہے اور “انٹرنیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوآپریشن انیشی ایٹو “جاری کیا ہے جس نے عالمی سائنس اور ٹیکنالوجی گورننس میں “چینی دانش” کا حصہ ڈالا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے وسیع پیمانے پر اس کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔”اتحاد میں جیت جیت مضمر ہے، اور ہاتھ میں ہاتھ لے کر مشترکہ ترقی ممکن ہے”. چین ہمیشہ کی طرح کھلے رویے کو برقرار رکھے گا، دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی جدت طرازی میں تعاون کو گہرا کرتا رہے گا، اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت طرازی میں تعاون کو مستحکم اور بڑھانا جاری رکھے گا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی جدت طرازی اور سائنسی اور تکنیکی ترقی بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر میں شریک ممالک اور دنیا کے دیگر ممالک کی معاشی اور سماجی ترقی کو بہتر طور پر بااختیار بنا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی مشاورت  اصولی طور پر ایک فریم ورک پر پہنچ گئی  ججز سن لیں، انصاف کے ساتھ شیطانی کی تو پوری قوم یاد رکھے گی،علیمہ خان وزیراعظم شہبازشریف سے چودھری سالک حسین کی قیادت میں وفد کی ملاقات،کامیاب بجٹ پر خراج تحسین نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر گفتگو پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل آیا، معاشی استحکام کا سفر ایک معجزہ ہے : وزیرِاعظم احسن اقبال کا ہرجانہ دعویٰ، مراد سعید کے وکلاء غیر حاضر، عدالت کا نئی تاریخ کا حکم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی نئی تاریخ سامنے آگئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: چین اور رہے ہیں

پڑھیں:

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔

دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔

قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔

تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟

اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان