ابوظہبی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون 2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے کے دوران یو اے ای کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گہرے بھائی چارے پر مبنی تعلقات، جو باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور قریبی تعاون کی تاریخ پر استوار ہیں، کو اجاگر کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اہم شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے پر متحدہ عرب امارات کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے خطے میں امن، مذاکرات اور استحکام کے فروغ میں متحدہ عرب امارات کے مثبت کردار کو سراہا۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے مثبت انداز اور تمام سطحوں پر جاری پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور علاقائی امن اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی موجود تھے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے متحدہ عرب امارات کے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ