Express News:
2026-07-24@06:14:31 GMT

حضرت عثمان غنی  ؓپیکرِ ایثار و سخاوت

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

حضرت عثمان غنیؓ کے حق میں قرآن مجید کی آیات کریمہ نازل ہوئی ہیں۔ جنگ تبوک کا واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب مدینہ منورہ میں سخت قحط تھا اور عام مسلمان بہت زیادہ تنگی میں تھے، یہاں تک کہ درختوں کے پتے کھا کر گزارہ کرتے تھے۔ اسی لیے اس جنگ کے لشکر کو جیش عُسرہ یعنی تنگ دستی کا لشکر کہا جاتا ہے۔

ترمذی شریف میں حضرت عبد الرحمٰن بن خباّبؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر تھا، جب آپؐ جیش عسُرہ کی مد د کے لیے لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ آپ ﷺ کا پُرجوش خطاب سن کر کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یارسول اﷲ ﷺ! میں سو اونٹ سامان کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں پیش کروں گا۔

اس کے بعد پھر حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کو سامان لشکر کے بارے میں ترغیب دی اور امداد کے لیے متوجہ فرمایا تو پھر حضرت عثمان غنیؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یارسول اﷲ ﷺ! میں دو سو اونٹ مع ساز و سامان اﷲ کی راہ میں نذر کروں گا۔

اس کے بعد پھر رسول کریم ﷺ نے سامان جنگ کی فراہمی کی طرف مسلمانوں کو رغبت دلائی، پھر حضرت عثمان غنی ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یارسول اﷲ ﷺ! میں تین سو اونٹ سامان کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں حاضر کروں گا۔ حدیث کے راوی حضرت عبد الرحمٰن بن خبابؓ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ منبر سے اُترتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے یعنی ایک ہی جملے کو حضور سید عالم ﷺ نے دو بار فرمایا۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے: ’’اب عثمان کو وہ عمل کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا جو اس کے بعد کریں گے۔‘‘

تفسیر خازن اور تفسیر معالم التنزیل میں ہے کہ آپؓ نے ساز و سامان کے ساتھ ایک ہزار اونٹ اس موقع پر پیش کیے تھے۔ حضرت عبدالرحمٰن ؓ بن سمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ جیش عُسرہ کی تیاری کے زمانے میں ایک ہزار دینار اپنے کُرتے کی آستین میں بھر کر لائے (دینا ر ساڑھے چار ماشے سونے کا سکہ ہوتا ہے) ان دیناروں کو آپؓ نے رسول مقبول ﷺ کی گود میں ڈال دیا۔

راوی حدیث حضرت عبدالرحمٰنؓ بن سمرہ فرماتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ ان دیناروں کو اپنی گود میں اُلٹ پلٹ کر دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ’’آج کے بعد عثمان کو ان کا کوئی عمل نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘ سرکار اقدس ﷺ نے ان کے بارے میں اس جملے کو دوبارہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ فرض کرلیا جائے کہ اگر حضرت عثمان غنیؓ سے کوئی خطا واقع ہوتو آج کا ان کا یہ عمل ان کی خطا کے لیے کفارہ بن جائے گا۔(مشکوٰۃ شریف)

تفسیر خازن اور تفسیر معالم التنزیل میں ہے کہ جب حضرت عثمان غنیؓ نے جیش عُسرہ کی اس طرح مد د فرمائی کہ ایک ہزار اونٹ ساز و سامان کے ساتھ پیش فرمائے اور ایک ہزار دینار بھی چندہ دیا۔ اور حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓ نے صدقہ کے چار ہزار درہم بارگاہ رسالت ﷺ میں پیش کیے تو ان دونوں حضرات کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، مفہوم:

’’جو لوگ کہ اپنے مال کو اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ پھر دینے کے بعد نہ احسان رکھتے ہیں اور نہ تکلیف دیتے ہیں، تو ان کا اجر و ثواب ان کے رب کے پاس ہے، اور نہ ان پر کو ئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سامان کے ساتھ کی راہ میں جاتے تھے ایک ہزار کے بعد

پڑھیں:

حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس

سٹی 42: خصوصی مشیر وزیر اعلیٰ علی ڈارکی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا۔  جس میں علی ڈار نے داتاؒ دربار عرس کیلئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
صوبائی وزیر بلال یاسین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد شریک ہوئے ۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق و دیگر شریک ہوئے ۔ 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کا تین روزہ سالانہ عرس 2 تا4 اگست کو منعقد ہوگا،خطیب داتا ؒدربار مولانا ندیم مختار نے سیرت و صوفی کانفرنسز سے متعلق آگاہ کیا۔محافل، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
علی ڈار نے کہا داتاؒ دربار تعمیراتی منصوبہ عہد ساز اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے،عرس میں دنیا بھر سے زائرین حاضری کی سعادت حاصل کریں گے،زیرِ تعمیر انڈر پاس اور متعلقہ سڑکیں عرس سے قبل کھولی جائیں گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

متعلقہ مضامین

  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس