بھارتی کرکٹ ٹیم کا دورۂ بنگلہ دیش غیر معینہ مدت تک ملتوی، دونوں بورڈز کی خاموشی برقرار
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
بھارتی کرکٹ ٹیم کا اگلے ماہ ہونے والا دورۂ بنگلہ دیش غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیا گیا ہے، بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، اس ضمن میں امکان ہے کہ بھارتی حکومت نے بی سی سی آئی کو دورہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ دورہ 17 سے 31 اگست کے دوران شیڈول تھا، جس میں 3 ون ڈے اور 3 ٹی20 بین الاقوامی میچز کھیلے جانے تھے، تاہم اس حوالے سے تاحال نہ تو بھارتی کرکٹ بورڈ اور نہ ہی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے کسی قسم کی باضابطہ تصدیق یا اعلان کیا ہے۔
India’s tour of Bangladesh postponed indefinitely: reports
Read more: https://t.
— Cricket Pakistan (@cricketpakcompk) July 4, 2025
بنگلہ دیشی بورڈ نے سیریز کے لیے تیاریوں کا آغاز کر دیا تھا، جن میں میڈیا رائٹس کی فروخت سمیت مختلف انتظامات شامل تھے، مگر اب ان سرگرمیوں کو وقتی طور پر روک دیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق نشریاتی اداروں کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے کہ سیریز فی الحال ملتوی ہو چکی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارت کے خلاف سیریز کی حتمی تاریخ طے نہیں ہو سکی۔ بھارتی بورڈ نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ ان کے لیے اگست میں آنا ممکن نہیں، یہ سیریز فیوچر ٹورز پروگرام کا حصہ ہے، اس لیے بعد میں شیڈول کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا ٹی20 کرکٹ کا دوسرا بڑا اسکور، بنگلہ دیش کو 133 رنز سے شکست
ادھر بھارتی حکام نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، بی سی سی آئی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں حتمی فیصلہ متوقع ہے اور دونوں بورڈز جلد مشترکہ اعلامیہ جاری کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ فیوچر ٹورز پروگرام کے تحت بنگلہ دیش کو مئی 2027 تک 49 بین الاقوامی میچز کی میزبانی کرنا ہے، جن میں 8 ٹیسٹ، 20 ون ڈے اور 21 ٹی20 میچز شامل ہیں، ان ٹیسٹ میچز میں آئرلینڈ، پاکستان، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف ہر ٹیم سے2 میچز بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ثنا میر آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل ہونے والی پاکستان کی پہلی خاتون کرکٹر بن گئیں
اس وقت بھارت اور بنگلہ دیش دونوں کے کرکٹ شائقین سرکاری اعلان کے منتظر ہیں جبکہ سیریز کے انعقاد کے حوالے سے غیریقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بھارت بی سی سی آئی فیوچر ٹورز پروگرام کرکٹ میڈیا رائٹس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ بھارت کرکٹ میڈیا رائٹس بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ گیا ہے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔