حماس نے غزہ جنگ بندی تجویز پر جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا، فلسطینی عہدیدار
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ فلسطین میں جنگ بندی تجویز پر مشاورت جاری ہے، حتمی مشاورت کے بعد ثالثوں کو اپنا فیصلہ پیش کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حماس نے غزہ جنگ بندی تجویز پر اپنا جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا ہے۔ برطانوی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی عہدیدار نے کہا کہ حماس کا جنگ بندی تجویز پر مثبت ردعمل ہے، امید ہے اس سے معاہدے پر پہنچنے میں آسانی ہوگی۔ دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ فلسطین میں جنگ بندی تجویز پر مشاورت جاری ہے، حتمی مشاورت کے بعد ثالثوں کو اپنا فیصلہ پیش کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ میں امن قائم کرنے کیلئے 60 روزہ جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی تھی۔ غزہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے 138 فلسطینی شہید اور 452 زخمی ہوگئے ہیں۔ جنوبی غزہ میں جھڑپ کے دوران ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے خان یونس کے کئی علاقوں سے فلسطینوں کو زبردستی نقل مکانی کرنے کا نیا حکم دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنگ بندی تجویز پر کا کہنا ہے کہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔