کریپٹو اقدامات سے امریکا میں پاکستان کی اہمیت اور سرمایہ کاری کے امکانات میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
کریپٹو سفارت کاری سے واشنگٹن میں پاکستان کی پذیرائی اور سرمایہ کاری کے مواقع ہیں جب کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق کریپٹو اقدامات سے واشنگٹن میں پاکستان کی اہمیت اور سرمایہ کاری کے امکانات میں اضافہ ہوگیا۔
فنانشل ٹائمز نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمت عملی اور کریپٹو اقدامات سے واشنگٹن میں پاکستان کو پذیرائی حاصل ہوئی، مائیکل کوگلمین مین غیر مقیم سینئر فیلو، ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن کے مطابق ، امریکہ اورپاکستان کےتعلقات میں غیر متوقع بہتری اور نیا عروج دیکھنے کو ملا۔
فنانشل ٹائمز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے تعلقات اسلام آباد کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں، جبکہ بھارت ناراض ہے، پاکستان نے کریپٹو سفارت کاری کے ذریعے ٹرمپ کے کاروبار کے اندرونی حلقوں میں جگہ بنائی۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل نے پاکستان کریپٹو کونسل کے ساتھ لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے، کھربوں ڈالر مالیت کے پاکستان کے قیمتی معدنی وسائل ہیں، ٹوکنائزیشن کے لیے تیار ہیں۔
بلال بن ثاقب وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین ، واشنگٹن میں اہم تجارتی مذاکرات میں شریک رہے، پاکستان کی کریپٹو صلاحیتیں ٹرمپ کے قریبی حلقوں اور امریکی مشیروں کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کی گئیں۔
واشنگٹن میں پاکستان کے کریپٹو منصوبوں کو امریکی تعریف اور دلچسپی حاصل، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واشنگٹن میں پاکستان سرمایہ کاری کے پاکستان کی
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔