رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے سابق کپتان اور ٹیم کے اسٹار بلے باز ویرات کوہلی نے 4 جون کو ایم چنا سوامی اسٹیڈیم کے باہر پیش آنے والے بھگدڑ پر پہلی بار خاموشی توڑ دی۔ اس واقعے میں 11 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

کوہلی نے اپنے بیان میں کہا کہ زندگی میں کچھ بھی آپ کو ایسے دل توڑنے والے لمحوں کے لیے تیار نہیں کرتا جیسا کہ 4 جون کا دن تھا۔ جو لمحہ ہماری فرنچائز اور فینز کے لیے خوشی کا موقع ہونا چاہیے تھا، وہ ایک سانحے میں بدل گیا۔

یہ بھی پڑھیے: آئی پی ایل چیمپیئن بننے کے بعد رائل چیلنجرز بنگلور کی فروخت کی خبریں، قیمت کیا ہوسکتی ہے؟

انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمی شائقین کے لیے دعاؤں کا پیغام دیا۔

یہ بیان رائل چیلنجرز کے ‘آر سی سی بی کیئرز’ کے اقدام کے تحت سامنے آیا ہے جس کا مقصد مستقبل میں ہجوم کے بہتر انتظامات کے ذریعے ایسے حادثات کی روک تھام کرنا ہے۔ کوہلی نے کہا کہ آپ کا نقصان اب ہماری کہانی کا حصہ ہے۔ ہم سب آگے بڑھیں گے مگر زیادہ احتیاط، عزت اور ذمہ داری کے ساتھ۔

دوسری جانب واقعے پر جسٹس کُنہا کمیشن کی رپورٹ میں ایم چنا سوامی اسٹیڈیم کو بڑے عوامی اجتماعات کے لیے غیر موزوں اور غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹیڈیم کے ڈیزائن اور ڈھانچے میں بنیادی مسائل ہیں جو بڑے اجتماعات کے دوران ناقابلِ قبول خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ کمیشن نے اس سانحے کی ذمہ داری آر سی بی، ڈی این اے انٹرٹینمنٹ اور کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن پر عائد کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی