پنجاب میں سیلاب؛ گنڈا سنگھ والا پر پانی کی پیمائش کرنے والا آلہ غائب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
پنجاب میں ایک طرف سیلاب سے صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب گنڈا سنگھ والا پر پانی ناپنے والی گیج ہی غائب ہوگئی۔
گنڈا سنگھ والا پر کتنا پانی داخل ہو رہا ہے اس کی پیمائش نہیں کی جا رہی، اس وقت پانی کا بہاؤ اندازاً 2 لاکھ 69 ہزار کیوسک ہے۔
اس کے علاوہ، چنیوٹ بیراج پر پانی کا بہاو ایک لاکھ 12 ہزار کیوسک ہے اور تریموں بیراج پر پانی کا بہاو دو لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے۔ پنجند ہیڈ ورک کا پانی کا بہاو 1 لاکھ 69 ہزار کیوسک ہے۔
نالہ پلکھو سے بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاو 8 ہزار 386 کیوسک ہے۔
دوسری جانب، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر حفاظتی بند ٹوٹنے اور ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کے سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، سول انتظامیہ و دیگر اداروں کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
دریائے ستلج کے نزدیک مصافاتی علاقوں میں پاک فوج اور سول انتظامیہ کے 12 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے۔
ساہیوال میں 49 دیہات متاثر ہوئے جہاں پاک فوج اور سول انتظامیہ کے 30 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے۔ تحصیل کبیروالا میں ہیڈ سدھنائی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے تاہم تلمبہ، میاں چنوں اور اقبال نگر میں ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔ ہزاروں افراد، مویشی اور گندم محفوظ مقامات پر منتقل کی جا چکی ہے۔
اوکاڑہ کے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے امداد کے لیے میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ رنگ پور اور ہیڈ محمد والا سمیت ممکنہ متاثرہ علاقوں میں بھی فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
تحصیل مظفرگڑھ اور کوٹ ادو میں پاک فوج اور سول انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ہیڈ محمد والا پر ممکنہ خطرے سے بروقت بچاؤ کے لیے بریچنگ پوائنٹ اور دیگر حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گنڈا سنگھ والا پر ہزار کیوسک ہے سول انتظامیہ پانی کا بہاو قائم کیے گئے میں پاک فوج علاقوں میں پر پانی
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔