ٹیمپرڈ اور ضبط شدہ گاڑیاں اب نیلام ہوسکیں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت گاڑیوں کی مہنگی قیمتوں کے باعث لوگ زیادہ تر جاپانی گاڑیوں کو پسند کرتے ہیں، چونکہ جاپانی گاڑی کو قانونی طریقے سے یہاں پہنچانے پر بھاری ٹیکس ادا کرنے ہوتے ہیں اس لیے بعض لوگ یہ گاڑیاں جاپان سے منگوا کر ان کے چیسز یا دیگر کاغذات میں ردوبدل کرتے ہیں اور پھر ایسی گاڑی کو پاکستان میں چلاتے ہیں، اس گاڑی کو ٹیمپرڈ گاڑی کہا جاتا ہے۔ ایسی گاڑی رکھنا، خریدنا یا بیچنا غیر قانونی ہوتا ہے۔ محکمہ ایکسائز، کسٹمز اور دیگر ادارے ایسے گاڑی پکڑے جانے پر ضبط کر لیتے ہیں۔
ایسی گاڑیاں جن کی کسٹم ڈیوٹی ادا نہ کی گئی ہو اور وہ سڑک پر پکڑ لی جائے تو ایسی گاڑی کو ضبط کرنے کے بعد محکمہ کسٹمز نیلام کر دیتا ہے اور وہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہو جاتی ہے۔ قانون کے مطابق ٹیمپرڈ گاڑی کو ضبط کرنے کے بعد نیلام نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں فینسی نمبر پلیٹس کے خلاف کریک ڈاؤن، خلاف ورزی پر گاڑیاں ضبط ہوں گی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس میں ٹیمپرڈ اور ضبط شدہ گاڑیوں سے متعلق موجودہ قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیمپرڈ اور ضبط شدہ گاڑیوں کی نیلامی سے متعلق نیا کسٹمز جنرل آرڈر (سی جی او) جلد جاری کرے گا۔
اجلاس میں ذیلی کمیٹی کو ان گاڑیوں کے تصرف کے لیے جامع طریقہ کار وضع کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔ تفصیلی مشاورت کے بعد، کمیٹی نے اتفاق رائے سے ایک نیا کسٹمز جنرل آرڈر تیار کیا جس کی بعد ازاں نائب وزیراعظم نے منظوری دی۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس فیصلے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ضبط شدہ اور ٹیمپرڈ گاڑیوں کے تصرف کا عمل مؤثر، شفاف اور منظم ہوگا، جس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ قومی خزانے کے لیے آمدن بھی حاصل ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے بلوچستان حکومت نے کفایت شعاری کے اعلان کے باوجود کتنی نئی گاڑیاں خریدنے کا ٹھیکہ دیا؟
فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) نے ایف بی آر کو سفارش کی تھی کہ ٹیمپرڈ چیسی نمبر والی ضبط شدہ گاڑیاں فلاحی اداروں کو فراہم کرنے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے رجوع کیا جائے تاکہ یہ ادارے ٹیمپرڈ گاڑیوں کو فلاحی سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل رواں سال 14 جون کو چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو سفارش دی تھی کہ ٹیمپرڈ گاڑیوں کے ضبط ہونے کے بعد 30 دنوں میں ان گاڑیوں کو تلف کر دیا جائے تاکہ ان گاڑیوں کے پارٹس مارکیٹ میں فروخت نہ ہو سکیں، واضح رہے کہ انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ ٹیمپرڈ گاڑی پکڑنے کے بعد اس کے پارٹس مارکیٹ میں فروخت کر دیے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیمپرڈ اور ضبط شدہ گاڑیاں محکمہ کسٹمز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیمپرڈ اور ضبط شدہ گاڑیاں ٹیمپرڈ اور ضبط شدہ ٹیمپرڈ گاڑی ایسی گاڑی گاڑیوں کے گاڑی کو کے لیے کے بعد
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔