بارشوں اور سیلاب کے باوجود کپاس کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
کراچی:
مسلسل بارشوں اور سیلاب کے باوجود پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار میں غیر متوقع اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان کاٹن جنرزایسوسی ایشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں 15 ستمبر2025تک کپاس کی پیداوار گذشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 40فیصد کا اضافہ ہواجس سے رواں سال روئی اور خوردنی تیل کے درآمدی بل میں بھی کمی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافے کی بڑی وجہ پنجاب میں زیادہ اگتی کاشت، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ٹینڈوں کے جلد کھلنے جبکہ سندھ میں کپاس کی پیداوار میں 47 فیصد اضافہ ہے۔
پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق 15ستمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 40فیصد کے اضافے سے مجموعی طور پر 20لاکھ 4ہزار روئی کی گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے۔
زیر تبصرہ مدت میں پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 28فیصد کے اضافے سے 6لاکھ 90ہزار گانٹھ جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 47فیصد کے اضافے سے 13لاکھ 14ہزار گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے۔
جننگ فیکٹریوں سے مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے اس مدت میں 16لاکھ 52ہزار گانٹھوں کی خریداری کی ہیں جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کی نسبت 3 لاکھ گانٹھیں زائد ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران برآمد کنندگان نے بھی جننگ فیکٹریوں سے 26ہزار 400گانٹھوں کی خریداری کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ رپورٹ کی ایک اور خاص بات پنجاب میں فی الوقت 212 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 100فیصد زائد ہیں جبکہ سندھ میں 216 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں 30فیصد زائد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کپاس کی پیداوار جننگ فیکٹریوں پیداوار میں سال کے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں