کراچی:

مسلسل بارشوں اور سیلاب کے باوجود پاکستان میں کپاس کی مجموعی پیداوار میں غیر متوقع اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان کاٹن جنرزایسوسی ایشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں 15 ستمبر2025تک کپاس کی پیداوار گذشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 40فیصد کا اضافہ ہواجس سے رواں سال روئی اور خوردنی تیل کے درآمدی بل میں بھی کمی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ 

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ کپاس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافے کی بڑی وجہ پنجاب میں زیادہ اگتی کاشت، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ٹینڈوں کے جلد کھلنے جبکہ سندھ میں کپاس کی پیداوار میں 47 فیصد اضافہ ہے۔ 

پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق 15ستمبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 40فیصد کے اضافے سے مجموعی طور پر 20لاکھ 4ہزار روئی کی گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے۔ 

زیر تبصرہ مدت میں پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 28فیصد کے اضافے سے 6لاکھ 90ہزار گانٹھ جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 47فیصد کے اضافے سے 13لاکھ 14ہزار گانٹھوں کی مساوی پھٹی پہنچی ہے۔ 

جننگ فیکٹریوں سے مقامی ٹیکسٹائل ملوں نے اس مدت میں 16لاکھ 52ہزار گانٹھوں کی خریداری کی ہیں جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کی نسبت 3 لاکھ گانٹھیں زائد ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران برآمد کنندگان نے بھی جننگ فیکٹریوں سے 26ہزار 400گانٹھوں کی خریداری کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ رپورٹ کی ایک اور خاص بات پنجاب میں فی الوقت 212 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 100فیصد زائد ہیں جبکہ سندھ میں 216 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں 30فیصد زائد ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کپاس کی پیداوار جننگ فیکٹریوں پیداوار میں سال کے

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر