گوجرانوالہ،بینک لاکرز میں رکھے اصلی سونے کو جعلی سونے میں بدلنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
گوجرانوالہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 ستمبر2025ء)بینک لاکرز میں رکھے اصلی سونے کو جعلی سونے میں بدلنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایف آئی اے گوجرانوالہ زون نے پہلے سے گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم ثاقب علی مذکورہ گینگ کا ماسٹر مائنڈ ہے، جو بینک عملے کے ساتھ مل کر اصلی سونے کی جگہ نقلی سونا رکھتا رہا۔
(جاری ہے)
ایف آئی حکام نے بتایا کہ ملزم نے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے کروڑوں کا سونا خوردبرد کیا ہے، مجموعی طور پر21 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کا سونا خوردبرد کیا گیا ہے۔حکام نے بتایاکہ ملزم کے دیگر 6 ساتھیوں کو ایف آئی اے پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے، گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر مرکزی ملزم ثاقب علی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق اس پورے معاملے میں گرفتار افراد کی تعداد 7 ہوگئی ہے ،جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ملزم کے خلاف 4 مقدمات درج ہیں، جو ملزم گزشتہ کئی ہفتوں سے روپوش تھا۔ ملزمان کی گرفتاری کیلئے خصوصی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایف ا ئی اے ملزمان کی
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔