ایران یکطرفہ پسندی اور جبر کی سیاست کی مخالفت میں چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا، ایرانی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 20 September, 2025 سب نیوز

بیجنگ :گزشتہ دنوں ایس سی او تھیانجن سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین آنے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے تجویز کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ تمام ممالک چاہے بڑے ہوں یا چھوٹے، امیر ہوں یا غریب، ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں، اور تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے ۔

ایران مذکورہ نقطہ نظر کو عملی جامہ پہنانے کی توقع رکھتا ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو ایک منظم انیشی ایٹو ہے، جس کے اہم موضوعات میں سے ایک بین الاقوامی قانون کی حکمرانی ہے۔ بین الاقوامی قانون میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے اور تمام ممالک کو سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چینی رہنما امن کے حامی ہیں اور چین عالمی برادری میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی مشترکہ تعمیر کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔ ایرانی جوہری مسئلے کے بارے میں پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے اس معاملے پر جامع معاہدے کو تسلیم کیا بلکہ اس کی تمام شرائط کی پاسداری کی ہے۔

اس کے برعکس امریکہ نے معاہدہ توڑ دیا، اور یورپ بھی اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ جنہوں نے خود اپنے وعدے پورے نہیں کیے،اب وہ ایران پر معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ عالمی سطح پر، انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ایران کی جوہری تنصیبات کی سب سے زیادہ نگرانی کرتی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے معائنے اور توثیق کی حامل ایرانی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی لیکن آئی اے ای اے لاتعلق رہی۔لہذا، ایران اب نئے میکانزم کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ بات چیت کرے گا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ نیتن یاہو “گریٹر اسرائیل” کے قیام کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ تمام پالیسیاں اسرائیل نے امریکہ کی حمایت اور ملی بھگت سے نافذ کی ہیں۔ پزشکیان کا ماننا ہے کہ امن کے حصول کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ تمام ممالک اتحاد اور تعاون کریں، ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا احترام کریں، اور باہمی تعاون اور تبادلہ کریں۔ گلوبل گورننس اینشی ایٹو اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد کر سکتا ہے ۔ ایران یکطرفہ پسندی اور جبر کی سیاست کی مخالفت کرتا ہے اور بین الاقوامی نظم و نسق کی ترقی کو زیادہ منصفانہ اور معقول سمت میں فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردو دن کے وقفے کے بعد عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونا پھر مہنگا ہو گیا ’’يوٹیوب‘‘نے وینزویلا کے صدر کا اکاؤنٹ بند کر دیا امریکا میں ورک ویزا کے خواہشمندوں کےلیے بڑا جھٹکا، فیس میں بھاری اضافہ بگرام ایئربیس چھوڑنا شرمناک، واپسی کیلئے افغانستان سے مذاکرات جاری ہیں: ٹرمپ غزہ تباہی کی بدترین سطح پر، دنیا کو اسرائیل سے ڈرنا نہیں چاہیے: اقوام متحدہ پرتگال کا فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان امریکہ کو یکطرفہ تجارتی پابندیوں کے اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہیے، چینی صدر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی ایرانی صدر انیشی ایٹو تمام ممالک کے ساتھ کرے گا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان