Jasarat News:
2026-07-24@01:39:44 GMT

جسٹس طارق محمود جہانگیری کی درخواست کو کیس نمبر الاٹ

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد ( آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جانب سے دائر کردہ اپیل کو کیس نمبر الاٹ کرتے ہوئے باقاعدہ عدالتی کارروائی کے لیے منظور کر لیا ہے۔ مذکورہ درخواست کو سپریم کورٹ میں CPLA نمبر 4247/25 کے تحت رجسٹر کیا گیا ہے۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اپنی اپیل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت انہیں جوڈیشل ورک سے روک دیا گیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے سے ان کے قانونی و آئینی اختیارات متاثر ہوئے ہیں، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج ہیں، اور انہیں حالیہ حکم نامے کے تحت عدالتی امور کی انجام دہی سے روک دیا گیا تھا، جس پر انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری