ایشیا کپ: بھارتی غرور خاک میں ملانے کا موقع، پاکستان اور بھارت آج پھر آمنے سامنے ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT
پاکستان کو بھارتی غرور خاک میں ملانے کا فوری موقع میسر آگیا، ایشیا کپ سپر 4 راؤنڈ میں دونوں ٹیمیں اتوار کو دبئی میں ہی پھر نبرد آزما ہوں گی، گرین شرٹس روایتی حریف سے اگلے پچھلے تمام حساب چکتا کرنے کیلیے پُرعزم ہیں۔
فتح کی بنیاد رکھنے کیلیے ٹاپ آرڈر کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، صائم ایوب کی بیٹنگ فارم پر تشویش بدستور قائم ہے،حارث رؤف کو برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، ٹاس کا کردار اہم ہوگا، سکہ جس کے رخ پر گرا وہ ٹیم ہدف کے تعاقب کو ترجیح دے سکتی ہے، پاکستانی اسکواڈ نے گزشتہ روز دبئی میں بھرپور ٹریننگ کی،اس بار بھی پریس کانفرنس سے گریز کیا گیا۔
دوسری جانب عمان کے خلاف اوسط درجے کے کھیل نے بھارتی اعصاب پر نادیدہ دباؤ بڑھا دیا، سر پر چوٹ کی وجہ سے اکشرپٹیل کی شرکت مشکوک ہے، مقابلے سے قبل ٹکٹوں کی فروخت میں کافی اضافہ دیکھا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ سپر 4 راؤنڈ میں اتوار کو پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گی، دبئی کے اسی وینیو پر گزشتہ اتوار کو بھارتی ٹیم نے گرین شرٹس کو شکست دی تھی،اس کے بعد پورا ہفتہ ’ہینڈ شیک‘ تنازع کی لپیٹ میں رہا، پاکستان نے اس کے بعد میزبان یو اے ای کو مات دے کر سپر 4 راؤنڈ میں جگہ بنائی۔
دوسری جانب بھارت نے ناقابل شکست رہتے ہوئے دوسرے راؤنڈ میں قدم رکھا ، آخری گروپ میچ میں عمان نے اس کی طاقت سے مرغوب ہوئے بغیر بھرپور مزاحمت کی، پاکستان ٹیم کو اس میچ سے کچھ حوصلہ بھی ملا ہو گا، لیفٹ آرم سوئنگ بولر شاہ فیصل نے اپنی تیسری ہی گیند پر شبمن گل کو بولڈ کر دیا تھا، وہ سنجو سیمسن کو بھی بیٹ کرتے رہے، پاکستان کے پاس شاہین آفریدی کی صورت میں لیفٹ آرم سوئنگ بولر موجود ہے، میچ کے مختلف پوائنٹس پر بھارتی بیٹرز کو سلو پچ پر جدوجہد کا سامنا رہا، 8 کھلاڑیوں سے بولنگ کرانے کے باوجود بھارت عمان کی صرف 4 وکٹیں ہی لے سکا۔ پاکستان کے لیے سب سے تشویش کا باعث غیرمستقل مزاج بیٹنگ لائن اور خاص طور پر ٹاپ آرڈر ہے، اب تک ایشیا کپ کے تینوں میچز میں صائم ایوب صفر پر آؤٹ ہوئے۔
اگرچہ انھوں نے کچھ وکٹیں لیں مگر جو ان کی اصل ذمہ داری ہے وہ اسے ادا نہیں کرپائے، کامیابی کیلیے انھیں اور صاحبزادہ فرحان کو ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا، فخر زمان کو بھی اپنی ٹریڈ مارک ہارڈ ہٹنگ کے جوہر دکھانا ہوں گے، اسی طرح حسن نواز اور محمد حارث سے بھی اسکور کو مستحکم کرنے کی توقعات وابستہ ہوں گی۔
بھارت سے شکست کے بعد پاکستان کی جانب سے یواے ای کیخلاف میچ میں 2 تبدیلیاں کی گئی تھیں، سفیان مقیم اور فہیم اشرف کی جگہ فاسٹ بولر حارث رؤف اور بیٹر خوشدل شاہ کو میدان میں اتارا گیا، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آنے والے میچ میں کس کمبی نیشن کوآزمایا جاتا ہے، ہفتے کے روز پاکستانی کھلاڑیوں نے بھرپور پریکٹس کی تاہم کسی پلیئر یا اسٹاف ممبر نے پریس کانفرنس میں حصہ نہیں لیا، یو اے ای کے خلاف میچ سے قبل بھی پاکستانی کیمپ سے کسی نے پریس کانفرنس نہیں کی تھی، اگرچہ بھارت کی جانب سے بھی ہفتے کے روز کسی نے پریس کانفرنس نہیں کی مگر اس کی وجہ بھارت کا عمان سے میچ اور اگلے مقابلے میں صرف 48 گھنٹوں کے فرق کو قرار دیا گیا، اسی کو بنیاد بناکر کہا گیا کہ بھارت کو لازمی پریس کانفرنس سے استثنیٰ مل گیا تھا۔
دبئی میں پچ حسب سابق اسپنرز کیلیے معاون ثابت ہوسکتی ہے، ایک موقع پر وہاں 15 فل ممبر ممالک کے درمیان ٹی 20 میچز میں ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیمیں کامیاب رہیں ، گزشتہ 5 میچز میں ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیموں نے 3 جبکہ پہلے بیٹنگ کرنے والی سائیڈز نے 2 بار کامیابی حاصل کی۔ بھارت کے اکشرپٹیل عمان سے میچ میں فیلڈنگ کے دوران سر پر چوٹ کھا بیٹھے تھے، اگر وہ کھیلنے کے قابل نہیں ہوئے تو پھر بھارت کا خاص طور پر دبئی کے میچز کیلیے استعمال کیا جانے والا 3 اسپنرز کا کمبی نیشن متاثر ہوسکتا ہے۔ میچ سے قبل ٹکٹوں کی مانگ میں بھی کافی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پریس کانفرنس راو نڈ میں ایشیا کپ میچ میں
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔