سیکیورٹی فورسز کی ڈی آئی خان میں کارروائی، 3افغان اور 2خودکش بمبار سمیت 7خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
سیکیورٹی فوسرز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں کارروائی کرتے ہوئے تین افغان اور دو خودکش بمبار سمیت 7 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 20 ستمبر کو انڈین پراکسی فتنۃ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں آپریشن کیا۔
علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے ہندوستانی اسپانسر شدہ خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق توقع ہے افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے گی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں سے روکے گی۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے ہندوستانی اسپانسر شدہ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے 7 خوارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
محسن نقوی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں خوارجیوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، 7 خوارجیوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتا ہوں۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی ہے، سیکیورٹی فورسز کی کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، خوارجیوں کو کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔