سعودی عرب سے معاہدہ وزیراعظم کی محنت کا نتیجہ ہے، حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
راولپنڈی : وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ وزیراعظم کی محنت کا نتیجہ ہے جو پوری قوم کے لئے خوشخبری ہے، اس معاہدے کے تحت ریلوے سمیت تمام شعبوں میں بہتری اور تعاون کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو 1978 سے درپیش سیفٹی چیلنجز پر قابو پانے کے لئے جامع حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ کراچی، لاہور اور راولپنڈی اسٹیشنز کی صفائی کے معیار کو بہتر بنایا گیا ہے جبکہ سندھ حکومت کے اشتراک سے کراچی جنکشن کی اپ لفٹنگ 80 کروڑ روپے کی لاگت سے کی جا رہی ہے۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ نارووال سیکشن کو منافع بخش قرار دے دیا گیا ہے جو 25 اکتوبر کو دوبارہ بحال ہوگا جبکہ 31 دسمبر تک 400 نئی کوچز کی اپ گریڈیشن مکمل کر دی جائے گی۔
وزیر ریولے نے کہا کہ کیریج فیکٹری میں تیار ہونے والی 60 نئی کوچز بھی دسمبر تک شامل ہو جائیں گی جو مسافروں کو آرام دہ اور محفوظ سفر کی سہولت فراہم کریں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شالیمار ایکسپریس، عوام ایکسپریس اور علامہ اقبال ایکسپریس سمیت دیگر ٹرینوں میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، ریلوے ڈرائیورز اور اسٹاف کے رننگ رومز کی اپ گریڈیشن کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ جدید ’’سیف اینڈ سیکیور سسٹم‘‘ متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت مسافروں کی چہرے اور آنکھوں سے شناخت ہوگی تاکہ انہیں محفوظ اور جدید سہولیات سے آراستہ سفری نظام فراہم کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔