data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ تہذیب کی بنیاد انصاف پر ہے، اور ظلم کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔ اسلام میں اسی انصاف پر زور دیا گیا ہے، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایک منصف ریاست کی مدد کرتا ہے خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ 23 ستمبر 2010 کو، عافیہ کو بدنام زمانہ ایف ایم سی کارسویل (FMC Carswell) میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی، جسے عام طور پر ’’خوف کا گھر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ سزا بنیادی طور پر ناقص تھی۔ یہ مقدمہ غیر قانونی تھا کیونکہ عافیہ ایک پاکستانی شہری تھیں جنہیں ان کے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ کراچی کی سڑکوں سے اغوا کیا گیا تھا۔ ان کا شیر خوار بیٹا سلیمان صرف 6 ماہ کا تھا۔ یہ سب ناقص انٹیلی جنس اور ایک انتقامی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ انہیں خفیہ جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اپنے بچوں سے الگ رکھا گیا، اور پھر جب وہ پاکستان میں مشہور ہو گئیں تو ایک بار پھر ان کا معاملہ پردہ پوشی کا شکار کر دیا گیا۔ اور انہیں سزا دینے کا ارادہ کرلیا گیا۔ انہیں رہا کر کے مختصر وقت کے لیے اپنے بیٹے سے ملوایا گیا تاکہ انہیں ایک ایسی جگہ جانے پر آمادہ کیا جا سکے جہاں انہیں ٹھکانے لگانا تھا۔ ان پر جھوٹا الزام لگایا گیا اور ایک دکھاوے کے مقدمے کے لیے امریکا کے حوالے کر دیا گیا۔

23 ستمبر 2010 کا دن پاکستانیوں اور دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنوں کی یادوں میں نقش ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کی بیٹی، ایم آئی ٹی (MIT) اور برینڈیز (Brandeis) سے فارغ التحصیل اور تین بچوں کی ماں، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکا میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کا جرم؟ مبینہ طور پر افغانستان میں امریکی اہلکاروں پر گولی چلانا تھا۔ جبکہ اسے بچوں سمیت کراچی سے اغوا کرکے کسی قانونی کارروائی کے بغیر امریکا کے حوالے کردیا گیا۔ استغاثہ کا مقدمہ بڑی حد تک مشکوک شواہد اور ایک دوسرے سے متصادم بیانات دینے والے گواہوں پر انحصار کرتا تھا۔ درحقیقت، فارنزک شواہد میں کوئی انگلیوں کے نشانات، گن پاؤڈر کی باقیات، یا گولیوں کے خول نہیں ملے جو عافیہ کو مبینہ فائرنگ سے جوڑتے ہوں۔

عافیہ نے خود سزا سنائے جانے کے دوران کہا، ’’آپ نفرت پر مقدمہ نہیں بنا سکتے۔ آپ کو حقائق کی ضرورت ہے۔ میں خدا سے فریاد کرتی ہوں… اور وہ میری سنتا ہے‘‘۔ ان کے الفاظ ان لاکھوں لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ عافیہ کے ساتھ انصاف کے نظام نے زیادتی کی ہے۔ انٹرنیشنل ایکشن سینٹر کی سارہ فلانڈرز (Sara Flounders) نے سزا کے دوران چیخ کر کہا، ’’شرم، شرم، اس عدالت پر شرم!‘‘، جس نے اس فیصلے پر بڑے پیمانے پر پائے جانے والے غصے کو اجاگر کیا۔ اس سزا نے انصاف، انسانی حقوق، اور قیدیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں بحث چھیڑ دی۔ معروف امریکی اسکالر نوم چومسکی (Noam Chomsky) نے عدالتوں کے مقصد پر سوال اٹھایا، جبکہ وکٹوریہ برٹن (Victoria Brittain) نے اس مقدمے کو ’اشتعال انگیزقرار دیا‘۔ اینڈی ورٹنگٹن (Andy Worthington) نے اس سزا کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا۔

عافیہ کا کیس انسانی حقوق کے کارکنوں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے ایک نعرہ بن گیا ہے۔ ان کے وکیل، کلائیو اسٹافورڈ اسمتھ (Clive Stafford Smith) نے ہزاروں گھنٹے کی تحقیق اور تفتیش کی ہے، اور امریکی اٹارنی جنرل کے دفتر میں 104,000 الفاظ پر مشتمل ایک درخواست دائر کی ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ تاخیر سے ہی سہی، خاندان اور دنیا بھر میں ان کے حامیوں کو کچھ تسلی ملے۔

میں یہ پڑھنے والے تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ عافیہ کی کہانی کو شیئر کریں اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو اجاگر کریں تاکہ اس قسم کے ظلم، غیر قانونی حوالگی، اور جبری گمشدگیوں کا کچھ خاتمہ ہو۔ پاکستانی حکومت کو شرم آنی چاہیے اور ان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ جیسا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا، ’’انصاف کو شکست نہ ہونے دیں‘‘۔ آئیے مل کر کام کریں تاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وہ انصاف مل سکے جس کی وہ مستحق ہیں۔

ستمبر 2025 اسلام آباد ہائی کورٹ میں انصاف کی پٹری سے اترنے کا ایک اور سنگ میل ہے جب اس نے عافیہ کے کیس میں عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے خبردار کیا تھا کہ وہ مزید تاخیر برداشت نہیں کرے گی، لیکن اب جج کو ہٹا دیا گیا ہے، اور انصاف ایک بار پھر پٹڑی سے اُتر گیا ہے۔ خود کو توہین عدالت سے بچانے کی کوشش میں، انہوں نے مداخلت کے لیے معزز چیف جسٹس سے مدد طلب کی۔ یہ تبدیلی کا وقت اور پچھلا ٹریک ریکارڈ ایسا ہے کہ اگر یہ جان بوجھ کر نہ بھی ہو، تب بھی یہ بدنیتی پر مبنی محسوس ہوتا ہے۔ میں ان کی رہائی کے لیے انتھک جدوجہد کر رہی ہوں، اور میری کوششوں نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے، اور عافیہ تحریک امن، انصاف اور آزادی کے لیے متحد ہے۔ ہم وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تاریخ رقم کریں اور پاکستان کی بیٹی کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ اگر ہماری بیٹی کی عزت کو خطرہ ہے تو سرحدوں کا دفاع بے معنی ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ وزیر اعظم میں عافیہ کی آزادی کا مطالبہ کرنے کی ہمت اور جرأت پیدا ہو۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے ا دیا گیا کے ساتھ گیا ہے اور ان

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان