data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میرپورخاص(نمائندہ جسارت) محکمہ تعلیم کے ملازمین نے گرلز اور بوائز ہائی اسکولوں میں ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کے نوٹیفکیش کو ہوا میں اڑا کر من پسند اسکولوں میں من پسند ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کو تعینات کر دیا ہے، بغیر سیمی کوڈ کے اسکول ظاہر کر کے تعیناتیاں کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سیکریٹری ایجوکیشن سندھ کی جانب سے مختلف اسکولوں میں ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کی تعیناتی کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا محکمہ تعلیم میرپورخاص کے افسران اور ملازمین نے اسے ہوا میں اڑاتے ہوئے بغیر سمی کوڈ اسکولوں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ان میں محکمہ تعلیم کے جاری نوٹیفکیشن 9 ستمبر کو نکلنے سے قبل بھاری رشوت کے عیوض 23 اگست کا نوٹیفکیشن محکمہ تعلیم میرپورخاص کی صرف ایک ٹیچر سیرل نمبر 100 پر لگا کر ان کے مرضی کے اسکولوں میں تعینات کر دیا گیا ہے ذرائع کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سیٹلائیٹ ٹاون میں ڈائریکٹر تعلیم آفس کے ملازمین نے رکھ دیا ہے جبکہ اس نام کا کوئی سیمی کوڈ کا اسکول نہیں ہے اور ملازم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ گورنمنٹ اقرا ہائی اسکول سیٹلائیٹ ٹاون کا آرڈر درست ہے میں بھاری رشوت لے کر اپنی دھاک بٹھائی ہے متاثرہ اساتذہ کی سینیارٹی اور دھونس سے ایک اسکول کے نام کو بدل دیا بڑا ٹیکنک دماغ سے یہ کام کیا جیسے کسی کو علم نا ہو متاثرین اساتذہ نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لے کر غلط جوائنگ ٹیچرز کو کیسے سیمی کوڈ کے بغیر دوسرے اسکول تعینات کیا گیا ہے اقرا ہائی اسکول سیٹلائٹ ٹاون اسکول کو موڈی فائیڈ کیا گیا تو کلیریکل غلطی تصور کیا گیا تو یہ ناانصافی ہو گی اور ایسے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے جو اساتذہ کا حق مار کر محکمہ تعلیم کو بدنام کر رہے ہیں ایک طرف وزیر تعلیم محکمے کو عروج ہر لانا چاہتے ہیں تو دوسری جانب کرپٹ ملازمین محکمے کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں اس سے اساتذہ کی سنارٹی پر فرق پڑے گا اور اپیل کی کہ 23 اگست 2025 کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا جائے اور جو ٹیچر اس نوٹیفکیشن میں سرل نمبر 100 پر ہے اسے فورا چارج چھوڑنے کا حکم جاری کیا جائے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محکمہ تعلیم اسکولوں میں ہائی اسکول

پڑھیں:

پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش

فوٹو: فائل

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔

پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔

سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش