فتنۃ الہندوستان کے دہشتگرد جہانزیب کے اعترافی بیان میں ہوش رُبا انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
فتنۃ الہندوستان کے دہشتگرد جہانزیب کے اعترافی بیان میں ہوش رُبا انکشافات WhatsAppFacebookTwitter 0 26 September, 2025 سب نیوز
چاغی (بلوچستان) میں ہتھیار ڈالنے والے فتنۃ الہندوستان کے دہشتگرد جہانزیب کے اعترافی بیان میں ہوش رُبا انکشافات سامنے آئے ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے چاغی (بلوچستان) میں فتنۃ الہندوستان کے دہشتگروں کیخلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے صوبے کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ کارروائی کے دوران 2 دہشتگرد جہنم واصل جب کہ دہشتگرد جہانزیب نے سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ واضح رہے کہ دہشتگرد بلوچستان کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔
ہتھیار ڈالنے والے دہشتگرد جہانزیب نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ میرا اصلی نام جہانزیب علی جب کہ تنظیمی نام علی جان ہے ۔ میں دہشت گرد زبیر احمد کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا اور گزشتہ 2 سال سے تنظیم کے ساتھ ہوں، جہاں زبیر(دہشتگرد) تخریبی منصوبہ بندی کرتا تھا۔
دہشت گرد جہانزیب کے مطابق 23 / 24 ستمبر کی شب سکیورٹی فورسز نے گھر کو گھیرے میں لے کر ہمیں ہتھیار ڈالنے کا کہا ۔ دہشت گرد نثار اور زبیر نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کردی۔ زبیر نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کوگولی مار لی جب کہ نثار سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔
دہشت گرد نے بتایا کہ میں نے اپنے ہتھیار رکھ دیے اور سیکورٹی فورسز نے مجھے زندہ گرفتار کرلیا ۔ میرے قریبی ساتھیوں کےمرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مسئلے کا حل لڑائی جھگڑے میں نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور بلوچ یکجہتی کمیٹی جیسی تنظیموں کا کردار گمراہ کن رہا ہے ۔ یہ تنظیمیں نوجوانوں کو لڑانے کا باعث بن رہی ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد بلوچستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دیگر تنظیمیں نوجوانوں کو ورغلا کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجوڈیشل ورک سے روکنے کا کیس؛ جسٹس جہانگیری نے اپنا وکیل مقرر کرلیا جوڈیشل ورک سے روکنے کا کیس؛ جسٹس جہانگیری نے اپنا وکیل مقرر کرلیا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن انتخابات 2025-26: پروفیشنل گروپ کے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے کرپشن اورناقص تفتیش کا الزام،ایف آئی اے کے 2 انسپکٹرز اور 2 سب انسپکٹرز نوکری سے فارغ شراب بوتلوں کی واپسی؛ سپریم کورٹ جج کے دلچسپ ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ آزاد کشمیر احتجاج: وفاقی وز را کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کامیاب، مطالبات تسلیم غزہ جنگ بندی کیلئے ٹرمپ کے 21 نکاتی منصوبے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فتنۃ الہندوستان کے اعترافی بیان میں دہشتگرد جہانزیب جہانزیب کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔