پاکستان اس وقت دہشتگردی کے ساتھ ساتھ پراپیگنڈے کے محاذ کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی)، جس کی قیادت ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کر رہی ہیں، بین الاقوامی سطح پر کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہے۔

انسانی حقوق کے پردے میں متنازع کردار

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، جنہیں ایک وقت میں ریاست کی جانب سے سرکاری وظیفہ دے کر طب کی تعلیم کے لیے بھیجا گیا تھا، اب غیر ملکی پشت پناہی رکھنے والے عناصر کے لیے ڈھال بن چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:http://ماہرنگ بلوچ: بلوچ لبریشن آرمی کی دہشتگردی کی پشت پناہی اور انسانی حقوق کے نام پر سرگرمیاں

وہ خود کو انسانی حقوق کی کارکن کے طور پر پیش کرتی ہیں، لیکن اسلام آباد انسٹیٹیوٹ آف کانفلکٹ ریزولوشن (IICR) کی تازہ تحقیق کے مطابق بی وائی سی دراصل دہشتگردی کو سرگرمیوں کے پردے میں چھپا رہی ہے۔

دہشتگردی پر خاموشی، ریاستی اقدامات پر تنقید

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی وائی سی نے نہ تو اگست 2024 کے موسیٰ خیل قتل عام، نہ مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ، اور نہ ہی مئی 2025 میں اسکول بس حملے کی مذمت کی۔

اس کے برعکس ان کے جلسے جلوس دہشتگردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کو ریاستی جبر قرار دیتے ہیں۔

احتجاج میں خواتین اور بچوں کا استعمال

تجزیہ کاروں کے مطابق مہرنگ بلوچ اپنے احتجاجی اجتماعات میں خواتین اور بچوں کو بطور ڈھال استعمال کرتی ہیں تاکہ ریاستی کارروائیوں کو ’ظلم‘ کے طور پر دکھایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ بلوچ کے لیے نوبل امن انعام کی نامزدگی میں اسرائیل اور بھارت کی دلچسپی

مارچ 2025 میں بی وائی سی کارکنوں نے کوئٹہ سول اسپتال پر دھاوا بول کر دہشتگردوں کی لاشیں قبضے میں لینے کی کوشش کی اور عملے پر حملہ کیا۔ اسی طرح 2024 میں گوادر میں مظاہروں کے دوران سی پیک روٹس بند کر دیے گئے اور پتھراؤ سے ایک ایف سی اہلکار جاں بحق ہوا۔

لاپتا افراد یا دہشت گرد؟

بی وائی سی کی سب سے بڑی دلیل لاپتا افراد کے کیسز پر مبنی ہے، لیکن کئی مثالیں اس دعوے کو مشکوک بناتی ہیں۔ عبدالودود ستکزئی کو لاپتہ قرار دیا گیا مگر بعد میں بی ایل اے نے خود اسے مچھ حملے میں اپنا خودکش بمبار تسلیم کیا۔

صہیب لانگو کو بھی لاپتا قرار دیا گیا لیکن وہ بعد میں مہرنگ بلوچ کے ذاتی محافظ کے طور پر سامنے آیا اور جولائی 2025 میں آپریشن میں مارا گیا۔

اسی طرح کریم جان اور رفیق بزنجو بھی ’لاپتا‘ دکھائے گئے لیکن دونوں دہشتگرد حملوں میں ملوث پائے گئے۔

عالمی سطح پر رابطے اور حمایت

بین الاقوامی سطح پر بھی مہرنگ بلوچ کے روابط سامنے آ رہے ہیں۔ کییا بلوچ، جو امریکی حکومت کے کالعدم قرار دیے گئے بی ایل اے کے سرگرم حمایتی ہیں، مہرنگ کو عالمی پلیٹ فارمز تک رسائی دلاتے ہیں۔

اسی طرح حبیب یار مری، مهران مری اور بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) بھی ان کے بیانیے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

اہم سوال

ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا ڈاکٹر مہرنگ بلوچ واقعی انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں یا پھر وہ پاکستان میں دہشتگردی کے پراپیگنڈے کا چہرہ بن چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچ یکجہتی کمیٹی بی ایل اے دہشتگرد لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ نوبیل انعام.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی بی ایل اے دہشتگرد لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ نوبیل انعام مہرنگ بلوچ بی وائی سی کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار