WE News:
2026-07-24@03:42:06 GMT

لاکھوں ملازمتیں مصنوعی ذہانت کے نشانے پر، کون بچ پائے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

لاکھوں ملازمتیں مصنوعی ذہانت کے نشانے پر، کون بچ پائے گا؟

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کام کی جگہوں کو تبدیل کرنے کی کلید بن سکتی ہے مگر اگر آپ کی ملازمت میں دہرانے والے یا خودکار کام شامل ہوں تو اثر بہت سنگین ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیپ فیک سے ڈیٹا چوری تک، اے آئی سے ذاتی تصاویر بنوانا کتنا خطرناک؟

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ لندن میں تقریباً 10 لاکھ ملازمتیں اے آےئی کی وجہ سے تبدیل ہو سکتی ہیں جن میں 2 لاکھ سے زائد ٹیلی مارکیٹرز، ڈیڑھ لاکھ بک کیپرز اور 95 ہزار سے زائد ڈیٹا انٹری ماہر شامل ہیں۔

آن لائن سی وی کمپنی لائیو کیریئر کی تحقیق بتاتی ہے کہ خطرے سے دوچار دیگر ملازمتوں میں فاسٹ فوڈ ورکرز، گودام کارکنان، ریٹیل کیشیئرز، پیرا لیگلز اور پروف ریڈرز شامل ہیں۔

مشاورتی فرم میکنزی نے بھی اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ ان ملازمتوں کی تشہیر میں تین سال پہلے کے مقابلے 38 فیصد کمی آئی ہے۔

تحقیق نے یہ انکشاف کیا کہ خواتین ان ملازمتوں میں مردوں کے مقابلے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ وہ زیادہ تر وہ عہدے سنبھالتی ہیں جن پراے آئی کا اثر ہو سکتا ہے۔

لائیو کیریئر کی ماہر جاسمین ایسکلرا نے خبردار کیا کہ کمپنیوں کو احتیاط برتنی چاہیے تاکہ غیر ارادی طور پر اے آئی کے استعمال سے صنفی اختلاف نہ بڑھے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ ملازمین کو چاہیے کہ وہ اپنے مینیجر کے ساتھ بات کریں کہ وہ تبدیلی کی صورت میں کیسے اپنا کردار بدل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان کا اقوام متحدہ سے مصنوعی ذہانت کو ضابطہ اخلاق میں لانے کا مطالبہ، فوجی استعمال پر سخت انتباہ

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے ایک ٹرسٹ نے اے آئی کو ملازمین کی جگہ نہیں بلکہ سپورٹ ٹول کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
کوئین الزبتھ اسپتال کی فارمیسی میں دوا روبوٹ کے ذریعے تقسیم ہوتی ہے اور کلینیشینز اسے مریضوں تک پہنچاتے ہیں۔

اے آئی طبی ڈیٹا کا تجزیہ کر کے بتاتا ہے کہ کس وقت کون سی دوا کتنی مقدار میں درکار ہے تاکہ ہسپتال کا نظام موثر رہے۔

مثال کے طور پر سردی کے موسم یا انفلوئنزا کے دوران اے آئی پتا لگا سکتی ہے کہ کس یونٹ کو نیبولائزرز کی ضرورت ہے۔

لیوشم اینڈ گرینوچ این ایچ ایس ٹرسٹ کی چیف فارماسسٹ ریچل نائٹ نے بتایا کہ وہ سالانہ تقریباً 4 لاکھ ادویات فراہم کرتی ہیں اور اس کام کی تفصیلات انسانی انداز سے سمجھنا مشکل ہوتا ہے لیکن  اے آئی یہ کام بخوبی کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہ کہ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دوا کس جگہ رکھی جائے تاکہ فوراً مریض تک پہنچ سکے ہمارا کام زیادہ مؤثر اور مریضوں کے لیے محفوظ ہوتا ہے۔

حکومت نے این ایچ ایس کی 10 سالہ حکمت عملی میں اے آئی کو کلیدی حیثیت دی ہے جس کا مقصد ملازمین کو اے آئی مہارتیں سکھانا اور ٹیکنالوجی کی رہنمائی کرنا ہے۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟
نائٹ نے بتایا کہ وہ خود بھی اے آئی ڈیجیٹل اپرنٹس شپ پروگرام میں شرکت کر رہی ہیں تاکہ اسٹاف کو ایپلی کیشنز کا استعمال سکھا سکیں۔

لیوشم اینڈ گرینوچ ٹرسٹ کی ڈیجیٹل ہیلتھ لیڈر زینب حسین کا کہنا ہے کا کہ اے آئی ملازمتیں چھیننے کے لیے نہیں بلکہ وہ دہرانے والے معمولی کاموں کو خودکار کرنے کے لیے ہے۔ اگر اے آئی خطرات کا جلد پتا لگا سکے تو طویل مدت میں نتائج بہتر ہوں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کہ این ایچ ایس میں کام کرنے والے افراد کھویں گے نہیں بلکہ انہیں نئی صلاحیتیں سکھائی جائیں گی تاکہ وہ مختلف کردار ادا کریں۔

ملازمتوں کی اشہارات میں کمی

سٹی یعنی لندن کا مالیاتی علاقہ اے آئی اپنانے میں سب سے آگے ہے اور اس کا اثر ابتدائی سطح کی وائٹ کالر ملازمتوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ مکینزی کی تحقیق بتاتی ہے کہ پورے ملک میں درمیانے درجے کی کمپنیاں (جس میں 250 یا زیادہ ملازمین ہوں) میں سے ایک تہائی سے زائد کا کہنا ہے کہ وہ اب اے آئی استعمال کر رہی ہیں۔

ملازمتوں کی تشہیر میں مئی تا جولائی کے عرصے میں 3 سال پہلے کی طرح 31 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور وہ شعبے جواے آئی کے زیرِ اثر ہیں وہاں اشہارات میں 38 فیصد کمی آئی ہے۔

 

محققین کا کہنا ہے کہ اگر ملازمتوں کی بھرتی کا سلسلہ کم ہوتا رہے تو مستقبل کی ورک فورس میں خالی جگہیں رہ جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے: ڈیجیٹل دنیا میں مستعمل نشان ’ @‘: جانیے اس کا مطلب اور ہزاروں سال پرانی دلچسپ تاریخ

انہوں نے مشورہ دیا کہ کاروباروں کو یہ سوچنا چاہیے کہ کون سے کام خودکار ہوں اور کون سے کام انسان کی تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی اور تعلقات کے مرہون منت ہیں۔

آج بھرتی ہونے والے ملازمین کل کیا اے آئی حکمت عملی، ثقافت اور مقابلہ بازی کو تشکیل دیں گے۔

کارکنوں کی نصف تعداد متاثر ہو سکتی ہے

ایمیزون، جے پی مورگن، مائیکروسافٹ اور فورڈ جیسی کمپنیوں نے پیش گوئی کی ہے کہ  اے آئی کا اثر ملازمتوں پر بہت وسیع ہو گا۔ فورڈ کے سی ای او جِم فاریلی نے کہا کہ اے آئی لفظی طور پر نصف وائٹ کالر کارکنوں کو بدل دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی لندن مصنوعی ذہانت ملازمتیں خطرے میں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی مصنوعی ذہانت ملازمتیں خطرے میں مصنوعی ذہانت ملازمتوں کی اے ا ئی کے لیے

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن