نومنتخب سینیٹر رانا ثنا اللہ نے حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
قائم مقام صدر کی جانب سے ایوان صدر میں سینیٹرز کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے ظہرانے میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک و بیرون ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ اجلاس کے دوران نومنتخب سینیٹر رانا ثنا اللہ نے حلف اٹھا لیا۔ شیری رحمان نے نومنتخب سینیٹر رانا ثنا اللہ سے حلف لیا، قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی جانب سے ایوان صدر میں سینیٹرز کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے ظہرانے میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک و بیرون ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :