سوناایک ہفتے میں فی تولہ 12 ہزار روپے سے زائد مہنگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور آج بھی اس قیمتی دھات کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، فی تولہ سونا مزید 2,100 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 9 ہزار 878 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے، جب کہ 10 گرام سونے کی قیمت 1,801 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 51 ہزار 404 روپے ہو گئی ہے۔
سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ صرف مقامی مارکیٹ تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہی رجحان جاری ہے۔ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونا 21 ڈالر کے اضافے سے 3,886 ڈالر پر جا پہنچا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرف سات روز میں فی تولہ سونا 12,178 روپے مہنگا ہو چکا ہے، جب کہ 10 گرام سونا 10,441 روپے کے اضافے کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اسی عرصے میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 127 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور معاشی غیر یقینی صورتحال کی علامت ہے۔
سونے کی قیمت میں اس ہوش رُبا اضافے نے جہاں سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچایا ہے، وہیں عام صارفین خصوصاً شادی کی تیاری کرنے والے گھرانوں کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو زیورات کی خریداری عوام کے لیے مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔