Jasarat News:
2026-06-03@00:37:20 GMT

بھیڑیوں کا معاہدہ امن وبقا

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251005-03-6

 

باباالف

بیس نکاتی غزہ امن معاہدے کا پہلا مسودہ ہو یا نیتن یاہو، وٹکوف اور جیرڈ کوشنر کا ترمیم شدہ مسودہ، صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو غزہ امن منصوبے کے نام پر خطے کی جس نئے ڈھب سے منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد یہاں صرف بھیڑیوں کا راج ہوگا۔ یہ علاقہ محض ایک وجود کی ملکیت ہوگا۔ یہودی وجود کی۔ ناپاک اسرائیلی یہودی وجود کے نزدیک ہمسایہ اقوام کی زندہ رہنے کی ایک ہی ضمانت ہے۔ غلامی۔ ان کے سیاسی اظہار میں امن، امن کی گردان کے پیچھے ایک ہی معنی چھپے ہوئے ہیں۔ غلامی۔ جب مذاکرات کی میز پر اصل فریق حماس موجود نہ ہو، مسجد اقصیٰ کے کنٹرول کا ذکر نہ ہو، ہاتھ بندھے ہوں، دھمکیاں کھلی ہوں، تب اس میز پر امن کے منصوبے نہیں غلامی کی دستاویز ہی لکھی جاسکتی ہے۔

امن منصوبے میں تجویز کیا گیا ہے کہ حماس اپنے ہتھیارڈال دے، غیر مسلح ہو جائے۔ غزہ کے مستقبل میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اسرائیل کے بجائے یہ حماس ہوگی جسے غزہ خالی کرنا ہوگا۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ حماس اور فلسطینی ناپاک وجود کی مزاحمت ترک کردیں، جہاد سے کنارہ کش ہوجائیں؟ ایسا کیسے ممکن ہے؟ جو قوم مزاحمت ترک کردیتی ہے وہ اپنی سانسیں دشمن کے پاس گروی رکھوا دیتی ہے۔ جو امن آزادی نہ دے، اپنی مرضی نہ دے، عزت نہ دے، فیصلوں کا اختیار نہ دے، اپنی زمین پر اپنا قبضہ اور دسترس نہ دے۔ وہ امن نہیں غلامی ہے۔ جارح طاقتوں کے لکھے ہوئے نکات مظلوموں کی تقدیر نہیں بدلتے۔ مظلوموں کے مقدر تب بدلتے ہیں جب اپنی تقدیر لکھنے کے لیے قلم اور کاغذ بھی ان کا ہو، لکھے گئے نکات بھی ان کے تجویز کردہ ہوں۔

امن منصوبے میں اہل غزہ کے لیے ایک عالمی انتظامیہ کا پیکر تراشا گیا ہے جس کا چارج صدر ٹرمپ اور دنیا کے بدترین جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ،Weapons of mass destruction کے خالق ٹونی بلیئر جیسے جھوٹے اور مسلم تباہی پسند کے پاس ہوگا۔ معاہدے میں اسے ’’عبوری انتظام‘‘ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس عبوری انتظام میں غزہ کے اصل وارث کہاں ہوں گے؟ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا کیا ہوگا؟ فلسطین کی داخلی خود مختاری کی نمائش کہاں ہوگی؟ جب کسی قوم اور ملک کے لوگوں کے فیصلے جارح کرتے ہوں، تب غلامی عبوری نہیں، مستقل ہوتی ہے۔

معاہدے میں تجویز کردہ غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی جس میں عالمی کفن چور مالک ومختار ہوں گے کبھی امن نہیں آسکتا۔ امن تب آتا ہے جب زمین کے بیٹے زمین کے مالک ہوں، وہ خود اپنی نسلوں کے مستقبل کے فیصلے کریں، اپنی مسجدوں میں اپنے دل کے خطبے پڑھیں، اپنے کھیتوں میں اپنی مرضی کی فصل کاشت کریں۔ اپنے گھر خود تعمیر کریں۔ امن کی تصویر دکھا کر، اگر ’’پہلے ہتھیار ڈال دو‘‘ کا مطالبہ ہو، اور ٹرمپ، نیتن یاہو اور ٹونی بلیئر جیسے ظالموں اور قاتلوں کی طرف سے ہو، تو وہ ہر گز ہرگز امن نہیں ہوسکتا، امن کا فریب ہوسکتا ہے چاہے اس میں کیسے ہی مہربان الفاظ لکھے ہوں، کیسے ہی وعدے کیے گئے ہوں۔

امن منصوبے میں تعمیر نو کے جس منصوبے کا ذکر ہے وہ قبضہ پکا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جو گھر گراتے اور مسمار کرتے ہیں وہ اس کی دوبارہ تعمیر اصل مالکان کو واپسی کے لیے نہیں کرتے۔ خود مالک بننے کے لیے کرتے ہیں۔ تعمیر نو نہیں یہ قبضے کا نیا روپ اور نوآبادیاتی شکل ہے۔ جو گھر تعمیر کیے جائیں گے کیا ضمانت ہے کہ ان میں کس کی رہائش ہوگی، کس کو اندر جانے کی اجازت دی جائے گی، کس کا قبضہ مستقل اور مسلسل ہوگا؟ ظالموں کے ہاتھوں تعمیر نو کبھی اصل مالکان کے لیے نہیں ہوتی اور نہ قابض قوتوں کی واپسی کے لیے ہوتی ہے۔

غزہ کو ساحلی تفریح گاہ بنانے کا عزم ظاہرکرتا ہے کہ دنیا کے تمام ظالم ایک ہی نوع کے ہوتے ہیں مگر یہودی وجود سے کم۔ مظلوموں کے لاشوں پر تعمیر کردہ ریزورٹ، شہیدوں کے خون میں تر بتر ہوٹل اور اجڑی اور تباہ حال بستیوں کے ملبے پر کھڑی کی گئی تفریح گا ہیں، زنا، جوئے اور شراب نوشی کے اڈے۔ ان تعمیرات کو اہل غزہ کی فلاح وبہبود سے کیسے تعبیر کیا جاسکتا ہے جن کی بنیادوں میں سمندر اور اہل غزہ کا خون یکساں طور پر بہہ رہا ہوگا۔ یہ اہل غزہ کی نہیں ان سرمایہ داروں کی جنت ہوگی جن کے لیے منافع ہی سب کچھ ہے خواہ سمندر بیچ کر حاصل کیا جائے یا انسانی لہو بیچ کر۔ امن منصوبہ نہ امن ہے اور نہ ترقی، یہ فلسطینیوں کی قبروں اور ان کے بچوںکی لاشوں پر سامراجی سرمایہ داروں کی باربی کیو پارٹی کا منصوبہ ہے۔

غزہ امن منصوبے پر مسلم سربراہان نے پہلے تالیاں بجائیں اور اب اپنی عوام کے خوف سے وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ مسلمانوں کے خلاف یہودو نصاریٰ کا مشترکہ شکنجہ ہے لیکن ان مسلم حکمرانوں کے پاس کوئی ایسا تصور نہیں جو امت مسلمہ کے ساتھ مشترک ہو۔ بیس نکاتی منصوبہ ان حکمرانوں کے لیے آرام دہ حل ہوسکتا ہے جن کی زبانیں گنگ ہیں اور ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، امت کو ان سے کوئی امید نہیں ہے۔ امت اپنا مستقبل ان کے ہاتھ میں نہیں حماس جیسے مجاہدین کے حوصلوں میں دیکھتی ہے۔

مجاہدین جانتے ہیں کہ اگر وہ منصوبوں کے اس فریب اور الفاظ کے الجھائو میں آگئے تو یہ ناقابل معافی کفر ہوگا جس کا نتیجہ مستقل پسپائی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔ وہ کل بھی میدان جنگ میں کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور مستقبل میں بھی کھڑے ہوں گے۔ جہاد اور اللہ کی راہ میں جان دینا ایسا ہی نشہ اور لذت ہے۔ ان کے بچے کل فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہم ان کی اولادیں ہیں جنہوں نے اپنی زمین کا سودا کرنے کے بجائے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، جہاد کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا، اس جہاد کے پرچم کو جو آزادی کے دروازوں پر نصب ہوتا ہے۔

امن۔۔ ٹرمپ جیسے یہود نواز، عیش کوش اور نیتن یاہو جیسے دہشت گردوں کے منصوبوں سے نہیں آسکتا۔ تباہی وبربادی لانے والے بیس نکات سے بھی جن کی سیری نہیں ہوتی اور اہل غزہ کے لیے اس منصوبے کو مزید مہلک اور جان لیوا بنانے کے لیے وہ اس میں خاموشی سے ترامیم کردیتے ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے بدمعاش ہی ایسا منصوبہ ترتیب دے سکتے تھے جس میں تمام پابندیاں، جبر اور استیصال اہل غزہ اور حماس کے لیے ہو اور یہودی ناپاک وجود کے غزہ سے انخلا کی کوئی تاریخ نہ دی گئی ہو۔

امن کبھی بھیک کی طرح مانگ کر، سر جھکا کر، ظالموں کے امن منصوبے کی تائید کرکے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ امن جہاد کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، ظالم کے جبڑوں سے چھینا جاتا ہے۔ جہاد، اتحاد اور خون سے ہی امن کی کھیتیاں سینچی جاتی ہیں تب بیس نکات ہوں یا سو نکات، سب کاغذوں پر لکھے رہ جاتے ہیں اور جذبہ جہاد سے لبریز آزادی کی جدوجہد نئی تاریخ رقم کرتی ہے۔ جہاں ظلم ہو، مظلوموں کا خون بہایا جارہا ہو، بستیاں برباد کی جارہی ہوں وہاں غلامی کے معاہدے نہیں چلتے، جہاد چلتا ہے، وقتی کامیابی اور ناکامی سے ماورا، مسلسل اور مستقل جہاد۔ امن آزادی کی قیمت پر بھی حاصل نہیں کیا جاتا۔ دشمن کے سامنے جھکنا سانس لینے کا ایک وقفہ تو ہوسکتا ہے پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوسکتا۔ امن جنگ کا خاتمے اور اس کے رکنے سے نہیں آتا۔ حقیقی امن تب ہی آتا ہے جب لوگ اپنی تقدیر کے خود مالک ہوں، اپنی زمین پر خود فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہوں، اپنی شناخت اپنی مرضی سے طے کرتے ہوں۔ کسی معاہدے میں اگر زمین کے اصل وارث شامل نہ ہوں، لوگوں کی آزادی محدود کی جارہی ہو، ان کے حقوق غضب کیے جارہے ہوں، ان کی خودارادی کو پابند کیا جارہا ہو اور جارح قوتیں ان پر مسلط اور قابض ہوں تو وہ امن ایک دھوکا ہے، ایک پردہ اور ظلم کی نرم شکل اور تماشا۔

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو اہل غزہ غزہ کے کے لیے نہیں ا امن کی

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ