Jasarat News:
2026-07-24@04:34:47 GMT

بھیڑیوں کا معاہدہ امن وبقا

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251005-03-6

 

باباالف

بیس نکاتی غزہ امن معاہدے کا پہلا مسودہ ہو یا نیتن یاہو، وٹکوف اور جیرڈ کوشنر کا ترمیم شدہ مسودہ، صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو غزہ امن منصوبے کے نام پر خطے کی جس نئے ڈھب سے منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد یہاں صرف بھیڑیوں کا راج ہوگا۔ یہ علاقہ محض ایک وجود کی ملکیت ہوگا۔ یہودی وجود کی۔ ناپاک اسرائیلی یہودی وجود کے نزدیک ہمسایہ اقوام کی زندہ رہنے کی ایک ہی ضمانت ہے۔ غلامی۔ ان کے سیاسی اظہار میں امن، امن کی گردان کے پیچھے ایک ہی معنی چھپے ہوئے ہیں۔ غلامی۔ جب مذاکرات کی میز پر اصل فریق حماس موجود نہ ہو، مسجد اقصیٰ کے کنٹرول کا ذکر نہ ہو، ہاتھ بندھے ہوں، دھمکیاں کھلی ہوں، تب اس میز پر امن کے منصوبے نہیں غلامی کی دستاویز ہی لکھی جاسکتی ہے۔

امن منصوبے میں تجویز کیا گیا ہے کہ حماس اپنے ہتھیارڈال دے، غیر مسلح ہو جائے۔ غزہ کے مستقبل میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اسرائیل کے بجائے یہ حماس ہوگی جسے غزہ خالی کرنا ہوگا۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ حماس اور فلسطینی ناپاک وجود کی مزاحمت ترک کردیں، جہاد سے کنارہ کش ہوجائیں؟ ایسا کیسے ممکن ہے؟ جو قوم مزاحمت ترک کردیتی ہے وہ اپنی سانسیں دشمن کے پاس گروی رکھوا دیتی ہے۔ جو امن آزادی نہ دے، اپنی مرضی نہ دے، عزت نہ دے، فیصلوں کا اختیار نہ دے، اپنی زمین پر اپنا قبضہ اور دسترس نہ دے۔ وہ امن نہیں غلامی ہے۔ جارح طاقتوں کے لکھے ہوئے نکات مظلوموں کی تقدیر نہیں بدلتے۔ مظلوموں کے مقدر تب بدلتے ہیں جب اپنی تقدیر لکھنے کے لیے قلم اور کاغذ بھی ان کا ہو، لکھے گئے نکات بھی ان کے تجویز کردہ ہوں۔

امن منصوبے میں اہل غزہ کے لیے ایک عالمی انتظامیہ کا پیکر تراشا گیا ہے جس کا چارج صدر ٹرمپ اور دنیا کے بدترین جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ،Weapons of mass destruction کے خالق ٹونی بلیئر جیسے جھوٹے اور مسلم تباہی پسند کے پاس ہوگا۔ معاہدے میں اسے ’’عبوری انتظام‘‘ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس عبوری انتظام میں غزہ کے اصل وارث کہاں ہوں گے؟ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کا کیا ہوگا؟ فلسطین کی داخلی خود مختاری کی نمائش کہاں ہوگی؟ جب کسی قوم اور ملک کے لوگوں کے فیصلے جارح کرتے ہوں، تب غلامی عبوری نہیں، مستقل ہوتی ہے۔

معاہدے میں تجویز کردہ غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی جس میں عالمی کفن چور مالک ومختار ہوں گے کبھی امن نہیں آسکتا۔ امن تب آتا ہے جب زمین کے بیٹے زمین کے مالک ہوں، وہ خود اپنی نسلوں کے مستقبل کے فیصلے کریں، اپنی مسجدوں میں اپنے دل کے خطبے پڑھیں، اپنے کھیتوں میں اپنی مرضی کی فصل کاشت کریں۔ اپنے گھر خود تعمیر کریں۔ امن کی تصویر دکھا کر، اگر ’’پہلے ہتھیار ڈال دو‘‘ کا مطالبہ ہو، اور ٹرمپ، نیتن یاہو اور ٹونی بلیئر جیسے ظالموں اور قاتلوں کی طرف سے ہو، تو وہ ہر گز ہرگز امن نہیں ہوسکتا، امن کا فریب ہوسکتا ہے چاہے اس میں کیسے ہی مہربان الفاظ لکھے ہوں، کیسے ہی وعدے کیے گئے ہوں۔

امن منصوبے میں تعمیر نو کے جس منصوبے کا ذکر ہے وہ قبضہ پکا کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جو گھر گراتے اور مسمار کرتے ہیں وہ اس کی دوبارہ تعمیر اصل مالکان کو واپسی کے لیے نہیں کرتے۔ خود مالک بننے کے لیے کرتے ہیں۔ تعمیر نو نہیں یہ قبضے کا نیا روپ اور نوآبادیاتی شکل ہے۔ جو گھر تعمیر کیے جائیں گے کیا ضمانت ہے کہ ان میں کس کی رہائش ہوگی، کس کو اندر جانے کی اجازت دی جائے گی، کس کا قبضہ مستقل اور مسلسل ہوگا؟ ظالموں کے ہاتھوں تعمیر نو کبھی اصل مالکان کے لیے نہیں ہوتی اور نہ قابض قوتوں کی واپسی کے لیے ہوتی ہے۔

غزہ کو ساحلی تفریح گاہ بنانے کا عزم ظاہرکرتا ہے کہ دنیا کے تمام ظالم ایک ہی نوع کے ہوتے ہیں مگر یہودی وجود سے کم۔ مظلوموں کے لاشوں پر تعمیر کردہ ریزورٹ، شہیدوں کے خون میں تر بتر ہوٹل اور اجڑی اور تباہ حال بستیوں کے ملبے پر کھڑی کی گئی تفریح گا ہیں، زنا، جوئے اور شراب نوشی کے اڈے۔ ان تعمیرات کو اہل غزہ کی فلاح وبہبود سے کیسے تعبیر کیا جاسکتا ہے جن کی بنیادوں میں سمندر اور اہل غزہ کا خون یکساں طور پر بہہ رہا ہوگا۔ یہ اہل غزہ کی نہیں ان سرمایہ داروں کی جنت ہوگی جن کے لیے منافع ہی سب کچھ ہے خواہ سمندر بیچ کر حاصل کیا جائے یا انسانی لہو بیچ کر۔ امن منصوبہ نہ امن ہے اور نہ ترقی، یہ فلسطینیوں کی قبروں اور ان کے بچوںکی لاشوں پر سامراجی سرمایہ داروں کی باربی کیو پارٹی کا منصوبہ ہے۔

غزہ امن منصوبے پر مسلم سربراہان نے پہلے تالیاں بجائیں اور اب اپنی عوام کے خوف سے وضاحتیں دیتے پھر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ مسلمانوں کے خلاف یہودو نصاریٰ کا مشترکہ شکنجہ ہے لیکن ان مسلم حکمرانوں کے پاس کوئی ایسا تصور نہیں جو امت مسلمہ کے ساتھ مشترک ہو۔ بیس نکاتی منصوبہ ان حکمرانوں کے لیے آرام دہ حل ہوسکتا ہے جن کی زبانیں گنگ ہیں اور ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، امت کو ان سے کوئی امید نہیں ہے۔ امت اپنا مستقبل ان کے ہاتھ میں نہیں حماس جیسے مجاہدین کے حوصلوں میں دیکھتی ہے۔

مجاہدین جانتے ہیں کہ اگر وہ منصوبوں کے اس فریب اور الفاظ کے الجھائو میں آگئے تو یہ ناقابل معافی کفر ہوگا جس کا نتیجہ مستقل پسپائی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔ وہ کل بھی میدان جنگ میں کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور مستقبل میں بھی کھڑے ہوں گے۔ جہاد اور اللہ کی راہ میں جان دینا ایسا ہی نشہ اور لذت ہے۔ ان کے بچے کل فخر سے کہہ سکیں گے کہ ہم ان کی اولادیں ہیں جنہوں نے اپنی زمین کا سودا کرنے کے بجائے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، جہاد کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا، اس جہاد کے پرچم کو جو آزادی کے دروازوں پر نصب ہوتا ہے۔

امن۔۔ ٹرمپ جیسے یہود نواز، عیش کوش اور نیتن یاہو جیسے دہشت گردوں کے منصوبوں سے نہیں آسکتا۔ تباہی وبربادی لانے والے بیس نکات سے بھی جن کی سیری نہیں ہوتی اور اہل غزہ کے لیے اس منصوبے کو مزید مہلک اور جان لیوا بنانے کے لیے وہ اس میں خاموشی سے ترامیم کردیتے ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے بدمعاش ہی ایسا منصوبہ ترتیب دے سکتے تھے جس میں تمام پابندیاں، جبر اور استیصال اہل غزہ اور حماس کے لیے ہو اور یہودی ناپاک وجود کے غزہ سے انخلا کی کوئی تاریخ نہ دی گئی ہو۔

امن کبھی بھیک کی طرح مانگ کر، سر جھکا کر، ظالموں کے امن منصوبے کی تائید کرکے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ امن جہاد کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، ظالم کے جبڑوں سے چھینا جاتا ہے۔ جہاد، اتحاد اور خون سے ہی امن کی کھیتیاں سینچی جاتی ہیں تب بیس نکات ہوں یا سو نکات، سب کاغذوں پر لکھے رہ جاتے ہیں اور جذبہ جہاد سے لبریز آزادی کی جدوجہد نئی تاریخ رقم کرتی ہے۔ جہاں ظلم ہو، مظلوموں کا خون بہایا جارہا ہو، بستیاں برباد کی جارہی ہوں وہاں غلامی کے معاہدے نہیں چلتے، جہاد چلتا ہے، وقتی کامیابی اور ناکامی سے ماورا، مسلسل اور مستقل جہاد۔ امن آزادی کی قیمت پر بھی حاصل نہیں کیا جاتا۔ دشمن کے سامنے جھکنا سانس لینے کا ایک وقفہ تو ہوسکتا ہے پائیدار امن کی ضمانت نہیں ہوسکتا۔ امن جنگ کا خاتمے اور اس کے رکنے سے نہیں آتا۔ حقیقی امن تب ہی آتا ہے جب لوگ اپنی تقدیر کے خود مالک ہوں، اپنی زمین پر خود فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہوں، اپنی شناخت اپنی مرضی سے طے کرتے ہوں۔ کسی معاہدے میں اگر زمین کے اصل وارث شامل نہ ہوں، لوگوں کی آزادی محدود کی جارہی ہو، ان کے حقوق غضب کیے جارہے ہوں، ان کی خودارادی کو پابند کیا جارہا ہو اور جارح قوتیں ان پر مسلط اور قابض ہوں تو وہ امن ایک دھوکا ہے، ایک پردہ اور ظلم کی نرم شکل اور تماشا۔

بابا الف.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو اہل غزہ غزہ کے کے لیے نہیں ا امن کی

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا