مہاراجہ رنجیت سنگھ 1780میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوا۔ اوائل عمری ہی سے مشکلات کا سامنا کرنا شروع کر دیا۔عجیب بات ہے کہ کسی قسم کی کوئی تعلیم حاصل نہیں کی ۔ صرف گرمکھی زبان پڑھ سکتا تھا اور لکھتا بھی تھا۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ بچپن سے ہی گھڑ سواری ‘ نیزہ بازی اور تلوار چلانے کی مہارت حاصل کر چکا تھا۔ بارہ سال کا تھا کہ والد مہا سنگھ انتقال کر گئے ۔والدہ راج کور اور لکھپت رائے نے جاگیر سنبھالنے میں بہت مدد کی ۔
تیرہ سال کی عمر میں اس پر پہلا قاتلانہ حملہ ہوا۔ مگر کمال بہادری سے رنجیت سنگھ نے حملہ آور کو قتل کر ڈالا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغل سلطنت زوال پذیر ہو چکی تھی ۔ شمال مغربی علاقوں سے آنے والے مسلح جتھے اکثر شہروں پر حملہ کر کے لوٹ مار میں مصروف کار تھے ۔ رنجیت سنگھ نے صرف سترہ سال کی عمر میں ایک مضبوط اور طاقتور فوج تیار کی ۔ جس نے لوٹ مار کرنے والے جتھوں کو فنا کر کے رکھ دیا ۔ اس کی طاقت کا اندازہ لگایئے کہ موجودہ پنجاب ‘ کشمیر اور خیبر پختونخواکا کثیر علاقہ اس کی زیر سلطنت تھا ۔ رنجیت سنگھ مجموعہِ تضادات تھا ۔ سکھ دھرم پر مضبوط ایمان رکھتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رواداری کا قائل بھی تھا۔ آپ حیران ہوںگے کہ اس کی فوج میں ہندو‘ مسلمان ‘ سکھ ‘ فرانسیسی ‘ روسی اور دیگر مغربی ممالک کے افراد شامل تھے۔
رنجیت سنگھ نے بڑی شان و شوکت سے چالیس سال حکومت کی ۔رنجیت سنگھ کو تاریخ ایک سخت گیر حکمران کے طور پر یاد رکھتی ہے ۔ مگر اس کی شخصیت کا ایک حد درجہ رومانوی پہلو بھی تھا۔ بادشاہ بننے سے پہلے ‘ رنجیت سنگھ کوامرتسر سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سے عشق ہو گیا ۔ موراں طوائف تھی ۔ لاہور اور امرتسر کے درمیان ایک بارہ دری تھی جو رنجیت سنگھ کی ملکیت تھی ۔ موراں وہاں اکثر رنجیت سنگھ کے روبرو رقص پیش کرتی تھی ۔ دونوں کی محبت اتنی پروان چڑھی کہ نوجوان سپہ سالار اس کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔ اکیس سال کی عمر میں رنجیت سنگھ بادشاہ بن گیا۔
مورن کے متعلق اس کے جذبات بھرپور تھے ۔ ایک دن مہاراجہ نے موراں کو لاہور اپنے محل میں رقص کے لیے بلایا تو اس نے آنے سے انکار کر دیا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ امرتسر سے لاہور آتے ہوئے ‘ ایک چھوٹی نہر پڑتی تھی جو دریائے راوی سے منسلک تھی ۔ اس پر کسی قسم کا پل نہیں تھا ۔ جس دن مہاراجہ نے موراں کو طلب کیا ‘ اس وقت اس نے چاندی کے جوتے پہنے ہوئے تھے ۔چھوٹی سی نہر کو عبور کرتے ہوئے دونوں جوتے پانی میں بہہ گئے اور موراں ننگے پاؤں رہ گئی۔ سوچا کہ دربار میں بغیر جوتوں کے کیسے جائے گی اس لیے اپنے گھر واپس چلی گئی۔ جب رنجیت سنگھ کو اس مجبوری کا علم ہوا تو فوری طور پر نہر پر پل بنانے کا حکم دیا جو چند ہفتوں میں مکمل ہو گیا۔ وجہ صرف یہ کہ موراں کو امرتسر سے لاہور آنے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس زمانے میں رقاصائیں کسی طرح بھی احترام کے قابل نہیں سمجھی جاتی تھیں۔
شاید آج بھی ہمارے ملک کی یہی روایت ہے ۔ مگر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے موراں کو حد درجہ عزت و احترام دیا ۔ یہ پل آج بھی موجود ہے اور اسے موراں پل کہا جاتا ہے ۔ بادشاہ بنتے ہی رنجیت سنگھ نے موراں سے شادی کرلی اور اسے مہارانی صاحبہ کا خطاب دیا۔اکال تخت کو جب اس شادی کا علم ہوا تو وہاں مقیم سکھ جتھے داروں نے حد درجہ ناراضی کا اظہار کیا ۔ رنجیت سنگھ کو اکال تخت طلب کیا گیا۔ پوچھا گیاکہ اس نے ایک رقاصہ سے کیسے شادی کی ۔ رنجیت سنگھ کا جواب بالکل سیدھا تھا کہ اسے موراں سے شدید محبت ہے ۔ سکھ گروؤں کو اس کا یہ جواب پسند نہ آیا ۔ انھوں نے حکم دیا کہ رنجیت سنگھ کو درخت سے باندھ کر کوڑے مارے جائیں۔ مہاراجہ کو درخت سے باندھ دیا گیا اور اس کی قمیص جتھے داروں نے اتار دی ۔ پہلا کوڑا پڑا تو رنجیت سنگھ خاموشی اور ادب سے کھڑا رہا ۔ اس کی خود اعتمادی دیکھ کرمذہبی رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ مزید کوڑے نہ مارے جائیں اور آزاد کر دیا جائے۔
جب یہ خبر موراں کو ملی تو وہ بے تحاشا روئی۔ اس نے مرتے دم تک رنجیت سنگھ سے وفا نبھائی ۔ موراں کو موراں سرکار کہا جاتا تھا ۔ مہاراجہ نے سکے بنوائے جس پر موراں شاہی لکھا ہوا تھا۔
مہارانی موراں حد درجہ ذہین خاتون تھیں۔ غریب آدمیوں سے گھل مل کر رہتی تھیں ۔ مہارانی ہونے کی وجہ سے اس کے پاس دولت کی بہتات تھی ۔ جسے بڑی فیاضی سے غریب لوگوں میں تقسیم کرتی رہتی تھیں۔کئی بار ایسے ہوا کہ عام لوگوں کے مسائل سننے کے بعد بادشاہ کے پاس گئی اور رنجیت سنگھ کو مسائل حل کرنے کی درخواست کی۔
رنجیت سنگھ نے کبھی بھی مہارانی موراں کی درخواست رد نہ کی ۔ موراں نے بادشاہ کو ایک مسجد بنانے کا مشورہ دیا ۔ چنانچہ شاہ عالمی گیٹ کے نزدیک ایک مسجد تعمیر کی گئی جسے آج مائی موراں مسجد کہا جاتا ہے۔ مہاراجہ کے ذہن کی فراخ دلی کا اندازہ لگایئے کہ اس کا وزیراعظم دھیان سنگھ ہندو ڈوگرہ تھا ۔ وزیرخارجہ فقیر عزیز الدین مسلمان تھا اور وزیر خزانہ دینا ناتھ ہندو براہمن تھا۔ سپہ سالار میاں غوث جو ماہرترین توپچی بھی تھا‘ وہ بھی مسلمان تھا۔
تاریخ میں رنجیت سنگھ کے متعلق متضاد واقعات درج ہیں ۔ جیسے شاہ آمد علی جو کہ انیسویں صدی کا تاریخ دان تھا ۔ درج کیا کہ رنجیت سنگھ حد درجہ ظالم بادشاہ تھا ۔ اس کے اندر مغلوں جیسی صلہ رحمی موجود نہیں تھی۔ یہ بھی لکھتا ہے کہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں خالصہ فوج حد درجہ لوٹ مار کرتی تھی ۔ شہر کے شہر اجاڑ دیتی تھی ۔ اشتیاق احمد نے رنجیت سنگھ کے متعلق درج کیا ہے کہ کشمیر فتح کرتے ہوئے مسلمانوں پر بہت ظلم و ستم کیے ۔ اس بحث کو سکھ لکھاریوں نے کسی اور طریقے سے پیش کیا ہے۔ جیسے رتن سنگھ بھنگو نے 1847میں لکھا کہ مہاراجہ نے مسلمانوں پر کوئی سختی نہیں کی۔ برطانوی لکھاری کیونکہ رنجیت سنگھ سے حد درجہ تعصب رکھتے تھے ، رنجیت سنگھ نے انھیں ہمیشہ اپنی مضبوط فوج کے ذریعے پنجاب سے دربدر کیا ۔ لہٰذا کئی برطانوی تاریخ دانوں اور فوجی افسروں نے رنجیت سنگھ کے دور کو ظلم اور بربریت کا دور قرار دیا ۔
دراصل انسان کی شخصیت ہمیشہ سے تضادات کا شکار رہی ہے ۔ تاریخ کو دیکھیں تو رومن حکمرانوں سے لے کر فراعین مصر تک ‘ ہندو بادشاہوں سے لے کر ترک سلاطین تک ‘ بادشاہ محیر العقول تضادات کا شکار رہے ہیں۔ کوئی بھی حکمران ایسا نظر نہیں آتا جو خواتین سے بھرے ہوئے حرم نہ رکھتا ہو ۔ عجیب بات ہے کہ اس میں مسلمان اور غیر مسلمان شہنشاہوں میں بہت کم فرق ہے ۔ مقصد کسی خاص شہنشاہ کے متعلق کوئی منفی بات کرنا نہیں بلکہ استدلال یہ ہے کہ دنیا میں حکمرانوں کے متعدد چہرے نظر آتے ہیں ۔ اگر ایک طرف جنگ میں ہزاروں لوگوں کا سر قلم کر رہے ہیں تو دوسری طرف بہترین شعر بھی قلم بند کر رہے تھے۔ برصغیر پر غور کیجیے تو یہ معاملات بے حد عجیب و غریب معلوم پڑتے ہیں۔
مغل سلطنت میں اورنگزیب عالم گیر کو تاریخ دانوں نے بہت غیر انصافی سے پیش کیا ہے۔ اگر ایک طرف وہ بادشاہ مساجد بنوا رہا تھا تو دوسری طرف مندروں کو بڑی بڑی جاگیریں بھی عطا کر رہا تھا ۔ اگر ایک طرف وہ فتاویٰ عالمگیری لکھ رہا تھا تو دوسری طرف اس کے لشکر میں غیر مسلم کمانڈر اور سپہ سالار بھی شامل تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی حکمران کا صرف ایک رخ نہیں ہوتا ۔ اس کا روپ اور چہرہ واقعات اور حالات کے حساب سے بدلتا رہتا ہے ۔
جتنا مرضی فولادی یا کرخت نظر آئے کئی معاملات میں وہ بہت نازک مزاج اور رومان پسند پایا جاتا ہے۔ کئی بار تو ایسے لگتا ہے کہ ہم جس شخصیت کا احاطہ کر رہے ہیں اس کا ایک پہلو اس کے دوسرے عنصر سے اتنا مختلف ہوتا ہے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی شخص ہے ۔ بابر نامہ پڑھ کر دیکھئے تو اس میں برصغیر کے موسم سے لے کر پھلوں تک کی بدتعریفی کی گئی ہے۔ مگر سلطنت پانے کے بعد بابر نے اسی علاقے میں رہنے کو ترجیح دی جس کی وہ برائی کرتا رہا تھا۔
بھول کر بھی کبھی فرغانہ واپس جانے کا خیال تک نہیں کیا ۔ خاندان غلاماں کا بھی یہی حال تھا۔طالب علم کی دانست میں بادشاہ صرف اور صرف اپنے مفادات کا محافظ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی معاشرتی یا مذہبی اصول کار فرما نہیں ہوتا ۔ رنجیت سنگھ اور مہارانی موراں کی محبت بھی انھی تضادات کی ایک خوبصورت اور عمدہ مثال ہے۔جو آج بھی ایک سخت گیر بادشاہ کی رومان پسندی کی حقیقی تصویر ہے۔شاید انسان ایک الماری کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے ہر خانے میں ایک دوسرے سے مختلف چیزیں چھپی ہوتی ہیں ۔ایک خانے میں جو کچھ موجود ہے ‘دوسرے حصے کو اس کا کچھ پتہ نہیں۔ شاید ہر انسان اسی طرح مختلف حصوں میں تقسیم ہے!بس اسی معلوم اور نامعلوم کے درمیان زندگی گزر جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رنجیت سنگھ کو رنجیت سنگھ نے کہ رنجیت سنگھ رنجیت سنگھ کے مہاراجہ نے کے متعلق موراں کو رہا تھا بھی تھا
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔