Express News:
2026-07-24@03:13:22 GMT

موراں سرکار!

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

مہاراجہ رنجیت سنگھ 1780میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوا۔ اوائل عمری ہی سے مشکلات کا سامنا کرنا شروع کر دیا۔عجیب بات ہے کہ کسی قسم کی کوئی تعلیم حاصل نہیں کی ۔ صرف گرمکھی زبان پڑھ سکتا تھا اور لکھتا بھی تھا۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ بچپن سے ہی گھڑ سواری ‘ نیزہ بازی اور تلوار چلانے کی مہارت حاصل کر چکا تھا۔ بارہ سال کا تھا کہ والد مہا سنگھ انتقال کر گئے ۔والدہ راج کور اور لکھپت رائے نے جاگیر سنبھالنے میں بہت مدد کی ۔

تیرہ سال کی عمر میں اس پر پہلا قاتلانہ حملہ ہوا۔ مگر کمال بہادری سے رنجیت سنگھ نے حملہ آور کو قتل کر ڈالا ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغل سلطنت زوال پذیر ہو چکی تھی ۔ شمال مغربی علاقوں سے آنے والے مسلح جتھے اکثر شہروں پر حملہ کر کے لوٹ مار میں مصروف کار تھے ۔ رنجیت سنگھ نے صرف سترہ سال کی عمر میں ایک مضبوط اور طاقتور فوج تیار کی ۔ جس نے لوٹ مار کرنے والے جتھوں کو فنا کر کے رکھ دیا ۔ اس کی طاقت کا اندازہ لگایئے کہ موجودہ پنجاب ‘ کشمیر اور خیبر پختونخواکا کثیر علاقہ اس کی زیر سلطنت تھا ۔ رنجیت سنگھ مجموعہِ تضادات تھا ۔ سکھ دھرم پر مضبوط ایمان رکھتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رواداری کا قائل بھی تھا۔ آپ حیران ہوںگے کہ اس کی فوج میں ہندو‘ مسلمان ‘ سکھ ‘ فرانسیسی ‘ روسی اور دیگر مغربی ممالک کے افراد شامل تھے۔

رنجیت سنگھ نے بڑی شان و شوکت سے چالیس سال حکومت کی ۔رنجیت سنگھ کو تاریخ ایک سخت گیر حکمران کے طور پر یاد رکھتی ہے ۔ مگر اس کی شخصیت کا ایک حد درجہ رومانوی پہلو بھی تھا۔ بادشاہ بننے سے پہلے ‘ رنجیت سنگھ کوامرتسر سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سے عشق ہو گیا ۔ موراں طوائف تھی ۔ لاہور اور امرتسر کے درمیان ایک بارہ دری تھی جو رنجیت سنگھ کی ملکیت تھی ۔ موراں وہاں اکثر رنجیت سنگھ کے روبرو رقص پیش کرتی تھی ۔ دونوں کی محبت اتنی پروان چڑھی کہ نوجوان سپہ سالار اس کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا۔ اکیس سال کی عمر میں رنجیت سنگھ بادشاہ بن گیا۔

مورن کے متعلق اس کے جذبات بھرپور تھے ۔ ایک دن مہاراجہ نے موراں کو لاہور اپنے محل میں رقص کے لیے بلایا تو اس نے آنے سے انکار کر دیا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ امرتسر سے لاہور آتے ہوئے ‘ ایک چھوٹی نہر پڑتی تھی جو دریائے راوی سے منسلک تھی ۔ اس پر کسی قسم کا پل نہیں تھا ۔ جس دن مہاراجہ نے موراں کو طلب کیا ‘ اس وقت اس نے چاندی کے جوتے پہنے ہوئے تھے ۔چھوٹی سی نہر کو عبور کرتے ہوئے دونوں جوتے پانی میں بہہ گئے اور موراں ننگے پاؤں رہ گئی۔ سوچا کہ دربار میں بغیر جوتوں کے کیسے جائے گی اس لیے اپنے گھر واپس چلی گئی۔ جب رنجیت سنگھ کو اس مجبوری کا علم ہوا تو فوری طور پر نہر پر پل بنانے کا حکم دیا جو چند ہفتوں میں مکمل ہو گیا۔ وجہ صرف یہ کہ موراں کو امرتسر سے لاہور آنے میں کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس زمانے میں رقاصائیں کسی طرح بھی احترام کے قابل نہیں سمجھی جاتی تھیں۔

شاید آج بھی ہمارے ملک کی یہی روایت ہے ۔ مگر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے موراں کو حد درجہ عزت و احترام دیا ۔ یہ پل آج بھی موجود ہے اور اسے موراں پل کہا جاتا ہے ۔ بادشاہ بنتے ہی رنجیت سنگھ نے موراں سے شادی کرلی اور اسے مہارانی صاحبہ کا خطاب دیا۔اکال تخت کو جب اس شادی کا علم ہوا تو وہاں مقیم سکھ جتھے داروں نے حد درجہ ناراضی کا اظہار کیا ۔ رنجیت سنگھ کو اکال تخت طلب کیا گیا۔ پوچھا گیاکہ اس نے ایک رقاصہ سے کیسے شادی کی ۔ رنجیت سنگھ کا جواب بالکل سیدھا تھا کہ اسے موراں سے شدید محبت ہے ۔ سکھ گروؤں کو اس کا یہ جواب پسند نہ آیا ۔ انھوں نے حکم دیا کہ رنجیت سنگھ کو درخت سے باندھ کر کوڑے مارے جائیں۔ مہاراجہ کو درخت سے باندھ دیا گیا اور اس کی قمیص جتھے داروں نے اتار دی ۔ پہلا کوڑا پڑا تو رنجیت سنگھ خاموشی اور ادب سے کھڑا رہا ۔ اس کی خود اعتمادی دیکھ کرمذہبی رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ مزید کوڑے نہ مارے جائیں اور آزاد کر دیا جائے۔

جب یہ خبر موراں کو ملی تو وہ بے تحاشا روئی۔ اس نے مرتے دم تک رنجیت سنگھ سے وفا نبھائی ۔ موراں کو موراں سرکار کہا جاتا تھا ۔ مہاراجہ نے سکے بنوائے جس پر موراں شاہی لکھا ہوا تھا۔ 

مہارانی موراں حد درجہ ذہین خاتون تھیں۔ غریب آدمیوں سے گھل مل کر رہتی تھیں ۔ مہارانی ہونے کی وجہ سے اس کے پاس دولت کی بہتات تھی ۔ جسے بڑی فیاضی سے غریب لوگوں میں تقسیم کرتی رہتی تھیں۔کئی بار ایسے ہوا کہ عام لوگوں کے مسائل سننے کے بعد بادشاہ کے پاس گئی اور رنجیت سنگھ کو مسائل حل کرنے کی درخواست کی۔

رنجیت سنگھ نے کبھی بھی مہارانی موراں کی درخواست رد نہ کی ۔ موراں نے بادشاہ کو ایک مسجد بنانے کا مشورہ دیا ۔ چنانچہ شاہ عالمی گیٹ کے نزدیک ایک مسجد تعمیر کی گئی جسے آج مائی موراں مسجد کہا جاتا ہے۔ مہاراجہ کے ذہن کی فراخ دلی کا اندازہ لگایئے کہ اس کا وزیراعظم دھیان سنگھ ہندو ڈوگرہ تھا ۔ وزیرخارجہ فقیر عزیز الدین مسلمان تھا اور وزیر خزانہ دینا ناتھ ہندو براہمن تھا۔ سپہ سالار میاں غوث جو ماہرترین توپچی بھی تھا‘ وہ بھی مسلمان تھا۔ 

تاریخ میں رنجیت سنگھ کے متعلق متضاد واقعات درج ہیں ۔ جیسے شاہ آمد علی جو کہ انیسویں صدی کا تاریخ دان تھا ۔ درج کیا کہ رنجیت سنگھ حد درجہ ظالم بادشاہ تھا ۔ اس کے اندر مغلوں جیسی صلہ رحمی موجود نہیں تھی۔ یہ بھی لکھتا ہے کہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں خالصہ فوج حد درجہ لوٹ مار کرتی تھی ۔ شہر کے شہر اجاڑ دیتی تھی ۔ اشتیاق احمد نے رنجیت سنگھ کے متعلق درج کیا ہے کہ کشمیر فتح کرتے ہوئے مسلمانوں پر بہت ظلم و ستم کیے ۔ اس بحث کو سکھ لکھاریوں نے کسی اور طریقے سے پیش کیا ہے۔ جیسے رتن سنگھ بھنگو نے 1847میں لکھا کہ مہاراجہ نے مسلمانوں پر کوئی سختی نہیں کی۔ برطانوی لکھاری کیونکہ رنجیت سنگھ سے حد درجہ تعصب رکھتے تھے ، رنجیت سنگھ نے انھیں ہمیشہ اپنی مضبوط فوج کے ذریعے پنجاب سے دربدر کیا ۔ لہٰذا کئی برطانوی تاریخ دانوں اور فوجی افسروں نے رنجیت سنگھ کے دور کو ظلم اور بربریت کا دور قرار دیا ۔

دراصل انسان کی شخصیت ہمیشہ سے تضادات کا شکار رہی ہے ۔ تاریخ کو دیکھیں تو رومن حکمرانوں سے لے کر فراعین مصر تک ‘ ہندو بادشاہوں سے لے کر ترک سلاطین تک ‘ بادشاہ محیر العقول تضادات کا شکار رہے ہیں۔ کوئی بھی حکمران ایسا نظر نہیں آتا جو خواتین سے بھرے ہوئے حرم نہ رکھتا ہو ۔ عجیب بات ہے کہ اس میں مسلمان اور غیر مسلمان شہنشاہوں میں بہت کم فرق ہے ۔ مقصد کسی خاص شہنشاہ کے متعلق کوئی منفی بات کرنا نہیں بلکہ استدلال یہ ہے کہ دنیا میں حکمرانوں کے متعدد چہرے نظر آتے ہیں ۔ اگر ایک طرف جنگ میں ہزاروں لوگوں کا سر قلم کر رہے ہیں تو دوسری طرف بہترین شعر بھی قلم بند کر رہے تھے۔ برصغیر پر غور کیجیے تو یہ معاملات بے حد عجیب و غریب معلوم پڑتے ہیں۔

مغل سلطنت میں اورنگزیب عالم گیر کو تاریخ دانوں نے بہت غیر انصافی سے پیش کیا ہے۔ اگر ایک طرف وہ بادشاہ مساجد بنوا رہا تھا تو دوسری طرف مندروں کو بڑی بڑی جاگیریں بھی عطا کر رہا تھا ۔ اگر ایک طرف وہ فتاویٰ عالمگیری لکھ رہا تھا تو دوسری طرف اس کے لشکر میں غیر مسلم کمانڈر اور سپہ سالار بھی شامل تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی بھی حکمران کا صرف ایک رخ نہیں ہوتا ۔ اس کا روپ اور چہرہ واقعات اور حالات کے حساب سے بدلتا رہتا ہے ۔

جتنا مرضی فولادی یا کرخت نظر آئے کئی معاملات میں وہ بہت نازک مزاج اور رومان پسند پایا جاتا ہے۔ کئی بار تو ایسے لگتا ہے کہ ہم جس شخصیت کا احاطہ کر رہے ہیں اس کا ایک پہلو اس کے دوسرے عنصر سے اتنا مختلف ہوتا ہے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی شخص ہے ۔ بابر نامہ پڑھ کر دیکھئے تو اس میں برصغیر کے موسم سے لے کر پھلوں تک کی بدتعریفی کی گئی ہے۔ مگر سلطنت پانے کے بعد بابر نے اسی علاقے میں رہنے کو ترجیح دی جس کی وہ برائی کرتا رہا تھا۔

بھول کر بھی کبھی فرغانہ واپس جانے کا خیال تک نہیں کیا ۔ خاندان غلاماں کا بھی یہی حال تھا۔طالب علم کی دانست میں بادشاہ صرف اور صرف اپنے مفادات کا محافظ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی معاشرتی یا مذہبی اصول کار فرما نہیں ہوتا ۔ رنجیت سنگھ اور مہارانی موراں کی محبت بھی انھی تضادات کی ایک خوبصورت اور عمدہ مثال ہے۔جو آج بھی ایک سخت گیر بادشاہ کی رومان پسندی کی حقیقی تصویر ہے۔شاید انسان ایک الماری کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے ہر خانے میں ایک دوسرے سے مختلف چیزیں چھپی ہوتی ہیں ۔ایک خانے میں جو کچھ موجود ہے ‘دوسرے حصے کو اس کا کچھ پتہ نہیں۔ شاید ہر انسان اسی طرح مختلف حصوں میں تقسیم ہے!بس اسی معلوم اور نامعلوم کے درمیان زندگی گزر جاتی ہے۔ 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رنجیت سنگھ کو رنجیت سنگھ نے کہ رنجیت سنگھ رنجیت سنگھ کے مہاراجہ نے کے متعلق موراں کو رہا تھا بھی تھا

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف