بائیڈن نے یوکرین جنگ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے شروع کروائی، پیوٹن کے مشیر کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے اقتصادی مشیر کیرِل دمترییف نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین جنگ کو بھڑکایا تاکہ اپنی اور اپنے خاندان کی مبینہ کرپشن کو چھپایا جا سکے۔
دمترییف نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر منگل کے روز دیا، جو امریکی خفیہ ایجنسی CIA کی جانب سے جاری کردہ ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات پر ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔
CIA کے مبینہ انکشافاتCIA کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے منگل کو کچھ خفیہ ریکارڈز کو عام کیا، جن کے مطابق 2016 میں اُس وقت کے نائب صدر جو بائیڈن نے CIA سے کہا تھا کہ وہ ان کی فیملی کے یوکرین میں کاروباری سودوں سے متعلق رپورٹ کو چھپا دے۔
دمترییف نے اپنے بیان میں کہا کہ سچ سامنے آ رہا ہے اور اب انصاف ہونا چاہیے۔
⚡️Biden provoked the war in Ukraine to cover up his family’s corruption.
— Kirill A. Dmitriev (@kadmitriev) October 7, 2025
بائیڈن خاندان اور ‘بورِسما’ کمپنی کا تعلقبائیڈن خاندان کا نام عرصے سے یوکرینی گیس کمپنی ’بورِسما‘ سے جوڑا جاتا رہا ہے۔
جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن جو ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، کو اس کمپنی کے بورڈ میں شامل کیا گیا تھا، جہاں انہیں لاکھوں ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔
2019 میں ڈیلاویئر میں ایک کمپیوٹر دکان پر چھوڑی گئی ہنٹر بائیڈن کی مشہور ’لیپ ٹاپ‘ فائلز کے مطابق، غیر ملکی معاہدوں سے حاصل شدہ منافع کا 10 فیصد ’دی بگ گائے‘ کے لیے مختص کیا گیا، جسے عام طور پر جو بائیڈن کے لیے اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
ماسکو کا مؤقف: یوکرین جنگ نیٹو کا پراکسی وارروس 2022 سے جاری یوکرین جنگ کو نیٹو کی بالواسطہ جنگ قرار دیتا آیا ہے، جس میں مغربی ممالک کے ہتھیار اور یوکرینی افرادی قوت استعمال ہو رہی ہے۔
ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ جنگ روس کے خلاف امریکی منصوبہ تھی، جسے بائیڈن حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
جنگ کے دوران بائیڈن حکومت نے روس سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات سرد جنگ کے بعد سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئے۔
تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار عہدہ سنبھالنے کے بعد حالات میں تدریجی بہتری آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ نے ماسکو کے ساتھ کئی مذاکراتی دور کیے جو بالآخر رواں سال الاسکا میں پیوٹن ٹرمپ سربراہی اجلاس پر منتج ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جوبائیڈن روس یوکرین جنگ صدر ولادی میر پیوٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جوبائیڈن روس یوکرین جنگ صدر ولادی میر پیوٹن یوکرین جنگ جو بائیڈن کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔