پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچنے میں ناکام‘1اعشاریہ25ارب ڈالر قسط تاخیرکا شکار
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 اکتوبر ۔2025 ) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچنے میں ناکام رہے قرض دہندہ کا 11 روزہ دورہ بدھ کو اختتام پذیر ہو گیا تھااس سے 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور 28 ماہ کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 1.
(جاری ہے)
تاہم مالی ماہرین کا توقع ہے کہ دونوں فریقین مسائل طے کریں گے اور آنے والے ہفتوں میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچ جائیں گے”بزنس ریکارڈر“کے مطابق اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ اسعد حنیف نے پیش گوئی کی کہ پاکستان اور آئی ایم ایف دو سے چار ہفتوں کے اندر اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچ جائیں گے اور اگلی قسط کا اجرا تین سے چھ ہفتوں میں منظور کرلیا جائے گا ادھر اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ محمد اویس اشرف نے کہا ہے کہ دونوں فریق دو ہفتوں میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچ جائیں گے یا زیادہ سے زیادہ اکتوبر کے آخر تک معاہدہ ہوجائے گا. دونوں ماہرین نے بتایا کہ 28 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 کے دوران ای ایف ایف کے دوسرے اقتصادی جائزے اور آر ایس ایف کے پہلے جائزے کے تحت اہم اقتصادی اور ماحولیاتی اہداف پر اتفاق رائے ہو چکا ہے اور زیر التوا مسائل معمولی ہیں اویس اشرف نے وضاحت کی کہ پاکستان آر ایس ایف کی دو قسطیں حاصل کرے گا، ہر ایک کی قیمت 76.9 ملین ایس ڈی آر، جو کل 153.8 ملین ایس ڈی آر (تقریباً 209.7 ملین ڈالر) بنتی ہے ہم ای ایف ایف کے تحت مزید 1,036 ملین ڈالر وصول کریں گے اس سے تقریباً 1.25 ارب ڈالر بنتے ہیں اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آرز) آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر اور برقرار رکھی جانے والی اضافی زر مبادلہ ریزرو اثاثے ہیں. اویس اشرف نے کہا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان کی صوبائی حکومتیں بجٹ سرپلس حاصل کریں اور حالیہ سیلابوں کی وجہ سے اقتصادی ترقی پر اثر کے پیش نظر ایف بی آر کے ریونیو ہدف میں کمی کریں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ قرض پروگراموں کے دوران آئی ایم ایف کا اعتماد جیتا ہے آن لائن اجلاس کرنے کے اختیار کی دستیابی کی وجہ سے دونوں فریق زیر التوا مسائل پر بات چیت جاری رکھیں گے، جو اگلے چند ہفتوں میں حل ہو جائیں گے. ادھر آئی ایم ایف نے ایک بیان جاری کیا کہ آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام نے ای ایف ایف کے 37 ماہ کے معاہدے کے تحت دوسرے جائزے اور آر ایس ایف کے 28 ماہ کے معاہدے کے پہلے جائزے پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ تک پہنچنے میں اہم پیش رفت کی ہے پروگرام کا نفاذ مضبوط ہے اور وسیع پیمانے پر حکام کی وعدہ شدہ ذمہ داریوں کے مطابق ہے. دوسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پروگرام پر عمل درآمد حکومت کے وعدوں کے مطابق جاری ہے اور مذاکرات میں کئی اہم امور پر پیش رفت ہوئی جن میں مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے سیلاب متاثرین کی بحالی میں مدد، افراط زر کو اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کےلئے محتاط مالیاتی پالیسی شامل ہیں. اعلامیے میں کہا گیا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرکاری اداروں کے دائرہ کار میں کمی کے ساتھ شفافیت اور گورننس کو مضبوط بنانا بھی بات چیت کا حصہ رہے مہنگائی کو مقررہ ہدف میں رکھنے کے لئے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کی سفارش کی، توانائی شعبے کی بحالی کےلئے ریگولر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور اصلاحات پر اتفاق کیا گیا سرکاری اداروں کے حجم میں کمی اور شفافیت میں بہتری پر گفتگو کی گئی، حکام وزارت خزانہ 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کا دوسرا جائزہ کامیابی سے مکمل ہونے کیلئے پر امید ہیں. آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ25 ستمبر سے اب تک کی بات چیت تعمیری اور مثبت رہی، بقیہ امور طے کرنے کےلئے پالیسی سطح پر ورچوئل بات چیت جاری رکھی جائے گی عالمی مالیاتی فنڈ کا وفد واپس روانہ ہوگیا ہے. دریں اثنا ذرائع نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں ٹیکس فری کار امپورٹ اسکیمز ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، بیگج اور گفٹ اسکیم ختم، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم مزید سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا اسی طرح5 سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی مشروط طور پر اجازت ہوگی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے رواں ماہ ای سی سی کے ذریعے شرائط مزید سخت کرنے کی منظوری لینے کی ہدایت کردی، گورننس اینڈ کرپشن رپورٹ کے اجرا پر حکومت اور آئی ایم ایف میں اختلاف برقرار ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آئی ایم ایف کہ پاکستان آر ایس ایف ایف ایف ہفتوں میں نے کہا کہ کے مطابق جائیں گے بات چیت کے تحت ایف کے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔