پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ا سٹاف لیول معاہدہ طے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
معاشی میدان سے پاکستان کیلئے خوشخبری ،ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1۔2 ارب ڈالر کی قسط ملے گی
پاکستان کا اقتصادی پروگرام بتدریج استحکام اور مارکیٹ اعتماد کی بحالی کی جانب گامزن ہے،عالمی مالیاتی فنڈکا اعلامیہ
معاشی میدان سے پاکستان کے لیے خوشخبری، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، سٹاف لیول معاہدہ طے پا جانے کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ملیں گے۔جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی معاونت سے جاری توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کا اقتصادی پروگرام بتدریج استحکام اور مارکیٹ اعتماد کی بحالی کی جانب گامزن ہے۔ مالی سال 2025ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد پہلی بار سرپلس میں رہا، مالی توازن پروگرام ہدف سے بہتر رہا، افراط زر قابو میں ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ پاکستان کی معاشی نمو 3 اعشاریہ 25 سے 3 اعشاریہ 5 فیصد رہنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ سیلابوں نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا، ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں، فصلوں اور مکانات کو شدید نقصان پہنچا، تاہم عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے ماحولیاتی اصلاحات کے پروگرام کو بھی سراہا، اور کہا کہ ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لئے جامع اصلاحات اور پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد ضروری ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ حکومت توانائی کے شعبے کی پائیداری، مالی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے۔ اس سے پہلے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری ہیں، اور ان کی پیشگوئی درست ثابت ہوئی، اس دوران سٹاف لیول معاہدہ بھی طے پا گیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلا گرین پانڈا بانڈ رواں سال کے اختتام سے قبل جاری کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: عالمی مالیاتی فنڈ سٹاف لیول معاہدہ ا ئی ایم ایف کی جانب
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے