آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ طے، پاکستان کو 1.2 ارب ڈالرز ملیں گے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالرز ملیں گے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی (EFF) کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالرز جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلیٹی (RSF) کے تحت 20 کروڑ ڈالرز فراہم کیے جائیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سماجی شعبے کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافہ کرکے غربت میں کمی کے لیے اہم اقدامات کیے گئے۔ آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق تعلیم، صحت اور معاشی اصلاحات کے شعبوں میں وفاق اور صوبوں کی کارکردگی کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان کا مالیاتی خسارہ گزشتہ 14 سال کی بہترین سطح پر ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق پاکستان نے ٹیکس اصلاحات پر عملدرآمد اور پالیسی سطح پر اقدامات تیز کیے ہیں، وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ریونیو میں اضافے کے لیے تعاون پر زور دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان میں افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد کے دائرے میں رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
توانائی کے شعبے سے متعلق آئی ایم ایف نے واضح کیا کہ پاکستان کو سرکلر ڈیبٹ میں کمی، بجلی کے نقصانات کم کرنے اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے اہداف حاصل کرنا ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ زرعی شعبے میں حکومتی مداخلت کم کرنے، پیداوار بڑھانے اور عالمی تجارت کے فروغ کے لیے نئی ٹیرف پالیسی اپنانا ہوگی۔
اعلامیے میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کرنے، آبی وسائل کے بہتر استعمال اور توانائی اصلاحات کے تسلسل پر بھی زور دیا گیا ہے، آئی ایم ایف مشن نے پاکستان میں سیلاب کے نقصانات پر گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا اور حکومتِ پاکستان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف پاکستان کو کہ پاکستان کہا گیا گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
آکس معاہدہ کیا ہے؟آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔
منصوبے پر خدشات بھی برقراراگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اخراجات میں مزید اضافہآکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ