مجھے دہشتگردی کے لیے پاکستان بھیجا گیا، افغان دہشتگرد کے اعتراف پر ویڈیو منظر عام پر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
ایک گرفتار افغان دہشتگرد کے اعترافات سامنے آئے ہیں جس میں اس نے بتایا ہے کہ اسے کیسے پاکستان میں دہشتگردی کے لیے تیار کیا گیا۔
اگرچہ افغانستان دوسروں پر دہشتگردی کا الزام عائد کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود دہشتگردی کی نرسری ہے، اور اس کے شہری دہشتگردی میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک افغان دہشتگرد امراللہ کے اعتراف جرم پر مبنی ویڈیو کلپ منظرعام پر آیا ہے جس میں وہ بتاتا ہے کہ اس کے والد کا نام سید عارف ہے جو کہ ایک ریٹائرڈ استاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان سے اٹھنے والی دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: پاک فوج
اس نے بتایا ‘میں مارکی خیل، ضلع ننگرہار کا رہنے والا ہوں۔ میری عمر 39 سال ہے۔ میرے 2 بھائی اور 5 بہنیں ہیں۔ میں شادی شدہ ہوں اور میرے 7 بچے ہیں۔ میں نے دینی تعلیم کے لیے مدرسہ عبداللہ ابن مسعود میں داخلہ لیا لیکن 2002 میں مدرسہ چھوڑ دیا۔ اور قیمتی پتھروں کا کام شروع کردیا۔ اس کے علاوہ ایک ٹھیکیدار کے ساتھ منشی کے طور پر بھی کام کیا۔‘
اس نے مزید بتایا کہ اس کا چچا حکمت اللہ 2016 سے داعش کے کاموں اور ٹارگٹ کلنگ میں شامل تھا۔ 2020 میں اس نے امراللہ کو داعش میں شامل ہونے کو کہا۔
’کچھ عرصہ بعد میں نے داعش کی بیعت کرلی۔اور اپنے چچا کے ساتھ ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں میں شامل ہوگیا۔‘
امراللہ کے مطابق ’میری پہلی ٹارگٹ کلنگ خوگیانو میں اربکیان کمیٹی کے ایک رکن کی تھی۔ پھر 2021 کے شروع میں، میں نے امریکی فوج کے ایک مخبر کو قتل کیا۔ اس کے بعد 2021 کے وسط میں افغان حکومت کے ایک مخبر کی ٹارگٹ کلنگ کی۔ ان تمام ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری داعش نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر قبول کی۔‘
یہ بھی پڑھیے امیر خان متقی کا دورہ بھارت، کیا افغان حکومت دہشتگردی کے لیے اب بھارت کی پراکسی کا کردار ادا کرےگی؟
اس نے بتایا: ’اسی دوران میرے استادوں نے کہا کہ مجھے جہاد کے لیے پاکستان بھیجنا ہے۔ اس معاملے پر کافی دن بحث ہوتی رہی کیونکہ کچھ استادوں کا خیال تھا کہ پاکستان میں بہت سختی ہے اور کام کرنا مشکل ہے۔ 2021 میں سپین بولدک کے راستے داعش نے مجھے پاکستان بھیجا۔‘
ویڈیو کلپ سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ امراللہ کے اعترافات کا پہلا حصہ ہے۔ اس کے مزید اعترافات بھی سامنے آئیں گے جس میں بتایا جائے گا کہ وہ پاکستان میں کیسے اور کہاں دہشتگردی میں ملوث رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان میں دہشتگردی داعش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشتگردی پاکستان میں دہشتگردی کے ٹارگٹ کلنگ کے لیے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔