ناک اونچی ہونی چاہیے یا ایمان
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت، اسرائیل اور امریکا اور ان جیسے دیگر ملک کیوں ہر روز انصاف پسند معاشروں کی تنقید کا نشانہ بنے رہتے ہیں، اس لیے یہ وعدے نہ نبھانے، عہد کی پاس داری نہ کرنے اور طاقت کے زعم میں اپنی ناک اونچی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، دھونس جماتے ہیں۔ انسانوں کی زندگی میں اور اقوام کی زندگیوں میں، عالمی معاشروں میں جہاں تہذیب، تمدن کی بنیادوں پر زندگی چل رہی ہو وہاں ان وعدوں کی پاس داری، عہد نبھانے کی بڑی اہمیت ہے اور یہی انسانوں کی اور تہذیب یافتہ معاشروں کی پہچان ہے۔ یہی صفت ہر انسان کو دوسرے انسانوں سے الگ اور ممتاز بناتی ہے۔ اہل ایمان کے پاس کیا ہے ایک عہد کی پاس داری کی صفت ہی ہے اور ہے کیا؟ صلح حدیبیہ کیا ہے؟ اہل مدینہ اور اہل مکہ کے مابین ایک معاہدہ طے ہوا، معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ اگر مدینہ سے کوئی مکہ آنا چاہے تو اہل مدینہ کی جانب سے اسے نہیں روکا جائے گا اور اگر مکہ سے کوئی مدینہ جانا چاہے تو اہل مکہ اسے روک سکتے ہیں‘ بظاہر تو غیر متوازن معاہدہ معلوم ہوتا ہے مگر انسانیت کے قائد، رہبر، راہنماء اور اعلیٰ ترین ہستی، ایسی ہستی کہ تا قیامت ایسی ہستی
دوبارہ نہیں آسکتی‘ نبی آخرالزمانؐ معاہدے کے لیے زبان دے چکے ہیں اور معاہدہ ابھی تحریر ہونا کہ اچانک مکہ سے ابو جندل آگئے‘ اس وقت کے ماحول کا نقشہ کیا ہے؟ اہل مکہ کے بدترین تشدد سے نہایت لاغر، زخموں سے چور چور ابو جندلؓ‘ ان پر تشدد اس لیے کہ وہ ایمان لاچکے ہیں، اسلام قبول کرچکے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ انہیں اپنے ساتھ مدینہ لے جائیں۔ اتنی رقت آمیز درخواست کہ ہر مسلمان اندر سے ٹوٹ گیا‘ مگر فیصلہ کیا ہوا؟ فیصلہ یہی ہوا کہ ابو جندل واپس چلے جائو کہ ہم معاہدہ کرچکے ہیں، زبان دے چکے ہیں۔ اس وقت پوری مسلم برادری، اہل مدینہ کا کیا حال ہوگا؟ کوئی تصور کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا جناب!
لیکن زبان دی جاچکی تھی اور اس کی پاس داری کرنی تھی کہ اسی صفت کو اہل اسلام اور اہل کفر میں فرق کرنا تھا۔ اسلام میں زبان کی بڑی اہمیت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسلام آباد میں زبان کی کوئی اہمیت نہ ہو مگر ہم تو مسلمان ہیں، صلح حدیبیہ کی لاج رکھنے کے پابند اور وارث ہیں، کیا ہمیں یہ بات معلوم نہیں کہ بھارت نے وعدہ کیا تھا کہ اہل اکشمیر کو رائے شماری کا حق دے گا، آج سات دہائیوں سے ہم پاکستان کے ہر شہر، چوک چوراہوں میں سیاسی جماعتوں، دینی جماعتوں، کاروباری تنظیموں، تاجر فورمز غرض پارلیمنٹ سے لے عام چوراہوں تک بھارت کو لعن طعن کرتے ہیں کہ اس نے وعدہ نہیں نبھایا، جو زبان دی تھی اس کی پاس داری نہیں کی لیکن ہم خود بھی دیکھیں کہ کیا ہم میں سے کوئی ایسا تو نہیں ہے جو بھارت، امریکا اور اسرائیل کی مانند دھونس جمارہا ہو اور اپنے وعدے کی پاس داری نہ کررہا ہو؟ آئیے تھوڑا ساوقت نکالیے اور اپنے آس پاس دیکھیں کہ کون ہے؟ اگر کوئی بھی ایسا نہیں ہے تو پھر ہم بطور قوم کامیاب ہیں اگر کوئی ایسا مل جائے جو وعدے کی پاسداری نہیں کرتا، زبان دے کر مکر جائے کہ اپنی ناک اونچی رکھنی ہے تو پھر ہمیں ضرور سوچنا ہے اپنے بارے میں اور اس کے بارے میں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟
ایسے شخص کو کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں ایک بار ضرور جھانک لینا چاہیے آج کی تحریر اگر آج ہمارے معاشرے کی تصویر بھی ہے تو پھر ہمیں ضرور اپنا محاسبہ کرنا ہوگا ابھی آج کی بات کرلیتے ہیں، پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہے، طالبان عبوری حکومت وعدوں کے باوجود بندوق برداروں کو نہیں روک رہی، کئی بار اس کے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، کیا انہوں نے پاس داری کی؟ جو زبان دی تھی پاکستان کو پھر تنائج کیا ہیں؟ کچھ نتائج تو سامنے آچکے ہیں اور باقی نتائج کے لیے انتظار کیجیے، یہ سبق ہے ہمارے لیے اور ان تمام لوگوں کے لیے جنہوں نے جرگوں میں حلف اٹھائے ہیں۔ ان کے حلف کہاں ہیں؟ اگر وہ اپنے حلف کی پاس داری کر رہے ہیں تو نہایت قابل عزت لوگ ہیں، ان کی تکریم کی جانی چاہیے لیکن اگر وہ زبان کی پاس داری نہیں کر رہے تو پھر ان کا علاج ضروری ہے جو ہورہا ہے جس کا علاج نہیں ہوا اس کا بھی ہونا چاہیے کہ عقل مندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی پاس داری نہ ہے تو پھر کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :