ایشیز: اسٹارک کے 6 شکار، انلگش ٹیم 334 رنز پر آل آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
دوسرے ایشیز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انگلش ٹیم 334 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔
گابا میں جاری میچ کے دوسرے روز کھیل کا آغاز ہوا تو انگلش ٹیم اپنے گزشتہ روز کے ٹوٹل میں صرف 9 رنز کا ہی اضافہ کرسکی۔
جوفرا آرچر 38 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ مارنس لبوشین نے ہوا میں اڑتے ہوئے ان کا کیچ پکڑا۔ جو روٹ 138 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے 6 جبکہ مائیکل نیسر، برینڈن ڈوگٹ اور اسکاٹ بولینڈ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
یہ جنوری 2018 کے بعد پہلا موقع ہے جب انگلینڈ نے آسٹریلیا میں کسی ٹیسٹ اننگز میں 300 رنز بنائے ہیں۔
اس سے قبل پہلے روز انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو ایک مرتبہ پھر پہلے ہی اوور میں نقصان اٹھانا پڑا جب 5 کے مجموعی اسکور پر بین ڈکٹ گولڈن ڈک پر چلتے بنے۔
تیسرے ہی اوور میں اولی پوپ بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
بعد ازاں زیک کرولی نے جو روٹ کے ساتھ 117 رنز کی شراکت قائم کی۔ کرولی 76 رنز بناکر مائیکل نیسر کا شکار بنے۔
176 کے مجموعی اسکور پر ہیری بروک 31 رنز بناکر مچل اسٹارک کا شکار بن گئے۔ یہ ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں 415ویں وکٹ تھی جس سے وہ وسیم اکرم کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے لیفٹ آرم فاسٹ بولر بن گئے۔
کپتان بین اسٹوکس 19، جیمی اسمتھ صفر، ول جیکس 19، گس ایٹکنسن 4 اور برائیڈن کارس بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔
جو روٹ ایک اینڈ سے وکٹ سنبھالے رہے اور آخری وکٹ پر جوفرا آرچر کے ساتھ دن کے اختتام تک 61 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کی تھی۔
یہ جو روٹ کی مجموعی طور پر 40ویں جبکہ آسٹریلوی سرزمین پر ان کے کیریئر کی پہلی ٹیسٹ سنچری ہے۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں 40 سنچریز بنانے والے چوتھے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔
انگلینڈ نے دن کے اختتام تک 9 وکٹ پر 325 رنز بنائے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔