ملائیشیا؛ کرپشن الزامات پر آرمی چیف کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا؛ تحقیقات شروع
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
ملائیشیا؛ کرپشن الزامات پر آرمی چیف کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا؛ تحقیقات شروع WhatsAppFacebookTwitter 0 27 December, 2025 سب نیوز
کولالمپور(آئی پی ایس )ملائیشیا کے آرمی چیف جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو کرپشن اور منی لانڈرنگ الزامات کی تحقیقات تک رخصت پر بھیج دیا گیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کی وزارتِ دفاع نے آرمی چیف جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو فوری طور پر رخصت پر بھیجنے کی ہدایت جاری کر دی۔مقامی میڈیا نے دعوی کیا کہ یہ معاملہ تب شروع ہوا جب سماجی کارکن بدر الحشام شہران المعروف چیگو برد نے مسلح افواج کے ایک سینئر افسر پر منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے۔
جس کے بعد ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) کے سربراہ تن سری اعظم باقی نے بھی تصدیق کی کہ ایکٹ 2009 کی دفعہ 17(a) کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔ایم اے سی سی کے افسران نے فوج کے تحت ہونے والے پروکیورمنٹ منصوبوں خصوصا اوپن ٹینڈر کے ذریعے کیے گئے منصوبوں کی باریکی سے جانچ پڑتال کی۔
جانچ پڑتال میں 2023 سے 2025 کے درمیان 5 لاکھ رنگٹ سے زائد مالیت کے 158 منصوبے اور اس حد سے کم مالیت کے 4,521 منصوبے سامنے آئے ہیں۔ابتدائی نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ چند کمپنیاں بار بار اعلی مالیت کے ٹھیکے حاصل کر رہی تھیں جس پر تفتیشی افسران نے خدشات کا اظہار کیا۔
24 دسمبر تک ایم اے سی سی نے تین اعلی فوجی افسران سے پوچھ گچھ کی اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ چھان بین کی جائے گی۔جس کے بعد تازہ پیشرفت میں وزارت دفاع نے کہا ہے کہ آرمی چیف کو جبری رخصت پر اس لیے بھیجا گیا تاکہ منی لانڈرنگ سے متعلق ان پر عائد الزامات کی تحقیقات بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کی جا سکیں۔
وزیرِ دفاع داتوک سری محمد خالد نوردین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انتظامی اقدام مفادات کے ٹکرا سے بچنے اور تحقیقات کے شفاف اور مثر انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔علاہ ازیں جنرل تن سری محمد نظام جعفر کی لازمی ریٹائرمنٹ کے بعد نیوی کمانڈر ایڈمرل تن سری ذوالحلمی اثنین کو فوری طور پر ملائیشین مسلح افواج کا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔وزارتِ دفاع نے جنرل محمد نظام جعفر کی خدمات، قیادت اور مدتِ ملازمت کے دوران دی گئی اہم شراکتوں پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے معاملات کی خوش اسلوبی سے تکمیل کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیاسی بحران سے نکلنے کے لیے آج نہیں تو کل مفاہمت کرنا ہوگی: بلاول بھٹو اگلی خبربھارت خود کو 10 گنا بڑا ملک کہتا ہے مگر وہ ہماری طرح کا بہادر فیلڈ مارشل کہاں سے لائے گا؟ صدر زرداری انڈر 19سہہ ملکی سیریز: پاکستان نے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے ہرادیا پاکستان میں ایران کے سفیر امیری رضا مقدم کا بے نظیر بھٹو کو 18ویں برسی پر خراج تحسین پی ٹی آئی برطانیہ نے فیلڈ مارشل سے متعلق خاتون کی تقریر سے اظہارلاتعلقی کا اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا حکومت نے عادل راجہ پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی عائدکردی صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فورا واپس لے؛ صومالیہ کا اسرائیل سے شدید احتجاج جرمنی نے سنگین جرائم میں ملوث ایک اور افغان تارکین وطن کو ملک بدر کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔