دسمبر کے مہاجرین۔۔۔ پاکستان کے وہ بیٹے جو اب پاکستانی نہیں کہلا سکتے!
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: 16 دسمبر 1971ء کو جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو ایک ملک کی تقسیم کیساتھ ساتھ انسانیت بھی تقسیم ہوئی۔ اِس روز سیاسی وعدے، قانونی تقاضے اور انسانی حقوق۔۔۔ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے اور نئے سرے سے مہاجرین کی ایک بدقسمت داستان کا آغاز ہوا۔ اُسکے بعد آج تک گھر گھر پولیس کی تلاشی، اسکول میں بچوں کو داخلہ دینے سے انکار، گلی کوچوں میں پولیس کا خوف، اعلیٰ تعلیم سے محرومی، نسل در نسل پسماندگی، قانونی عدمِ تحفظ۔۔۔ یہ سب انسان کے انسان سے کیے گئے وعدوں کی تدفین ہے۔ یہاں نہ آئین بولتا ہے، نہ قلم حرکت کرتا ہے، نہ سیاست شرماتی ہے اور نہ کسی کا ضمیر جاگتا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
ماہِ دسمبر اپنے اختتام کو ہے اور آج ہم فلسطینی مہاجرین کا ذکر نہیں کریں گے۔ آج کراچی کی مچھر کالونی سے ہماری بات کا آغاز ہوگا۔ مچھر کالونی اور دسمبر کے مہینے کا گہرا تعلق ہے۔ اس مہینے میں جہاں پاکستان دولخت ہوا، وہاں پاکستان کے بیٹے بھی بڑی تعداد میں مہاجر ہوئے۔ مچھر کالونی کراچی کی وہ کچی بستی ہے، جہاں سمندر کی نمکین ہوا کے ساتھ شناخت کی تلخی آج بھی سانس لیتی ہے۔ جہاں مچھیروں کے جال میں مچھلی کم اور محرومی زیادہ پھنسی ہوئی ہے اور جہاں زبان بنگالی ہے، مگر مطالبہ پاکستانی کہلانے کا ہے۔ اینٹ، مٹی اور ٹین کی چھتوں سے بنی ہوئی یہ بستی تاریخ کے ان فیصلوں کا بوجھ ہے، جو کاغذ پر لکھنے کے بعد عام انسانوں کے نصیب کی زنجیر بن گئے۔ ان کے نصیب میں یہ لکھ دیا گیا کہ پاکستان کے یہ بیٹے اب پاکستانی نہیں کہلا سکتے۔
یہی المیہ ڈھاکہ کے بہاری کیمپوں میں بھی سانس لیتا ہے، جہاں مادرِ وطن سے وفاداری جرم بنی اور انجام کیمپ ٹھہرا۔ جہاں شناخت معلق ہوئی اور نسلیں انتظار میں بوڑھی ہوگئیں۔ یہ کیمپ ابتدا میں عارضی کہلائے اور بعد میں دائمی ہوگئے۔ جیسے فلسطین کے مہاجر کیمپ، غزہ، لبنان اور اردن میں پھیلے وہ مقامات جہاں ریاست نہ ہونے کا دکھ، روٹی سے زیادہ کڑوا ہے اور پاسپورٹ نہ ہونے کا زخم نسلوں تک تازہ رہتا ہے۔ یہی داستان افغان مہاجر کیمپوں میں دہرائی گئی۔ کابل سے کوئٹہ، قندھار سے پشاور اور پھر ایران، وسطی ایشیاء اور مغرب تک پھیلی ایک بے وطن آبادی، جسے دہائیوں تک "مہمان" ہی کہا گیا اور میزبان نے اُس مہمان کو اجنبی ہی بنا کر رکھا۔ ان مہمانوں کا عارضی قیام ہی ان کا مستقل ٹھکانہ بن گیا اور انتظار ہی اُن کی واحد شناخت ٹھہرا۔ یوں کشمیری مہاجر۔۔۔ مظفرآباد، میرپور، باغ، راولاکوٹ، راولپنڈی اور لاہور تک پھیل گئے۔ انہیں نام تو ملا، شناخت بھی، مگر ان کی بستیاں آج بھی ایک نامکمل وعدے کی گواہ ہیں، ایک ایسے حل کی منتظر جو صرف فائلوں میں موجود ہے۔
مہاجر چاہے کہیں کا بھی ہو، اُس کا ایک ہی سوال نسل در نسل ہے کہ جب ریاست شناخت دینے سے انکار کرے تو پھر انسان کہاں جائے۔؟ وزارتِ داخلہ، نادرا، وزارتِ انسانی حقوق۔۔۔ ان اداروں کو بھی یہ خبر نہیں کہ یہ سب ادارے مہاجرین کے مسائل حل کرنے کے لیے ہیں یا مسائل پیدا کرنے کے لیے۔؟ صوبائی حکومتیں فہرستیں بناتی ہیں اور فہرستوں میں درج نام اسکولوں، اسپتالوں اور تھانوں میں بے نام رہتے ہیں۔ وزارتِ امورِ کشمیر وعدے دہراتی ہے، اس کے باوجود مہاجر بستیاں آج بھی ماضی کی تصویر پیش کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی ادارے UNHCR، IOM ،UNRWA رپورٹس لکھتے ہیں، اعداد گنتے ہیں اور کیمپوں کو عالمی ضمیر کا مسئلہ قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے بعد کچھ نہیں۔ ایک بات طے ہے کہ انسان جب تک دوسرے انسان کو انسان نہ سمجھے، اس کا درد محسوس نہ کرے، تب تک یہ کیمپ دنیا کے نقشے سے نہیں مٹ سکتے۔ غیر سرکاری تنظیمیں HRCP، ایمنسٹی، ہیومن رائٹس واچ، ریڈ کراس وغیرہ صرف زخم دکھاتی ہیں، ان زخموں پر مرہم رکھنے کا اختیار ان کے پاس نہیں ہوتا۔
یوں مہاجر بستیاں اپنے میزبان ممالک کے باسیوں سے پوچھتی ہیں کہ کہاں گئے وہ خوبصورت اور دلکش وعدے کرنے والے۔؟ وہ وعدے جو اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھنے کے کام آتے ہیں، لیکن ان مہاجر بستیوں کے مکینوں کے لیے فقط ایک دھوکہ ہیں۔ بہتر مستقبل کے وعدے، تحفظ کے وعدے، شناخت کے وعدے اور برابری کے وعدے۔۔۔ یہ سب وہ وعدے ہیں، جنہوں نے لوگوں کو اُن کی اپنی زمینوں سے اٹھایا، اُنہیں اُن کے گھروں سے نکالا اور راستوں میں تنہاء چھوڑ دیا۔ ان مہاجروں سے کبھی کہا گیا کہ یہ ہجرت عارضی ہے کہ چند برسوں میں واپسی ممکن ہوگی۔ کبھی یقین دلایا گیا کہ نئی سرزمین ماں بنے گی اور ریاست باپ۔ پھر وقت گزرتا گیا، وعدے پرانے ہوتے گئے اور نسلیں کیمپوں میں پیدا ہو کر کیمپوں ہی میں جوان اور بوڑھی ہوتی گئیں۔ جو کل مہمان کہلائے، وہ آج بوجھ سمجھے جانے لگے، جنہیں تحفظ کا یقین دلایا گیا تھا، انہیں شناخت کا محتاج بنا دیا گیا۔
یہی جھوٹے وعدے بنگالی بولنے والوں کو پاکستان میں روکے رہے، بہاریوں کو بنگلہ دیش کے کیمپوں میں قید کیے رہے، افغانوں کو دہائیوں تک مہاجر کہلانے پر مجبور کیے رہے اور انہی کے ذریعے کشمیریوں کو عارضی آبادکاری کے نام پر مستقل بے یقینی سونپی گئی۔ ہر جگہ ایک ہی کہانی دہرائی گئی کہ ابھی ٹھہرو، فیصلہ ہونے والا ہے، لیکن ہمیشہ کی طرح یہاں فیصلہ کبھی کمزور، مجبور، پریشان اور دربدر انسان کے حق میں نہیں ہوا۔ یہ وعدے آئین میں بھی لکھے گئے، قانون میں بھی اور تقریروں میں بھی کیے گئے۔ ان وعدوں پر عمل کرنے کے حوالے سے مہاجرین کو ہمیشہ دفاتر کے دروازے بند ملے، فائلیں خاموش رہیں اور تاریخ نے ہاتھ جھاڑ لیے۔ یوں مہاجرت ایک مسلسل سفر بن گئی، جس کی نہ واپسی ہے اور نہ منزل۔ مہاجرین کے دکھ کو صرف مہاجرین ہی سمجھ سکتے ہیں۔ انہیں وعدوں کا دھوکہ کسی ایک فرد نے نہیں دیا۔ یہ دھوکہ ریاستی بیانیوں، سیاسی نعروں اور عالمی وعدوں سے مل کر تشکیل پایا ہے۔
یہ سب دھوکہ باز وہ ہیں، جنہوں نے لوگوں سے گھر تو چھڑوائے، لیکن انہیں حسبِ وعدہ گھر دینے سے انکاری ہوگئے۔ بنگالی بولنے والوں سے کہا گیا کہ یہ ملک تمہارا ہے، بہاریوں سے کہا گیا کہ وفاداری رائیگاں نہیں جائے گی، افغانوں سے کہا گیا کہ جنگ ختم ہوتے ہی واپسی ہوگی اور کشمیریوں سے کہا گیا کہ یہ عارضی قیام ہے، منزل قریب ہے۔ قانون نے وعدہ کیا کہ پیدائش حق ہے، رہائش دلیل ہے اور وقت شہادت۔ آئین نے کہا کہ جو جہاں پیدا ہوا، وہ وہیں کا ہے، قانون نے کہا کہ جو پہلے سے مقیم تھا، وہ شہری ہے۔ انہی وعدوں کی روشنی میں جب کوئی مہاجر عدالت، دفتر اور کاؤنٹر تک پہنچا تو قانون نے خود کو فائلوں میں چھپا لیا۔ اُس سے ماضی پوچھا گیا اور ماضی کی تلاش میں وہ سارے وعدے گم ہوگئے۔ 1951ء کا قانون، 1971ء کی تاریخ، 1978ء کی شرط۔۔۔ یہ سب دفعات بن گئیں، لیکن نوید نہ بن سکیں۔
دسمبر کا مہینہ پاکستانیوں کی تاریخ کا ایک سنگین موڑ ہے۔ اس مہینے میں پاکستانی اپنی ہی سرزمین پر تقسیم ہوگئے۔ 16 دسمبر 1971ء کو جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو ایک ملک کی تقسیم کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی تقسیم ہوئی۔ اِس روز سیاسی وعدے، قانونی تقاضے اور انسانی حقوق۔۔۔ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے اور نئے سرے سے مہاجرین کی ایک بدقسمت داستان کا آغاز ہوا۔ اُس کے بعد آج تک گھر گھر پولیس کی تلاشی، اسکول میں بچوں کو داخلہ دینے سے انکار، گلی کوچوں میں پولیس کا خوف، اعلیٰ تعلیم سے محرومی، نسل در نسل پسماندگی، قانونی عدمِ تحفظ۔۔۔ یہ سب انسان کے انسان سے کیے گئے وعدوں کی تدفین ہے۔ یہاں نہ آئین بولتا ہے، نہ قلم حرکت کرتا ہے، نہ سیاست شرماتی ہے اور نہ کسی کا ضمیر جاگتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے کہا گیا کہ کیمپوں میں کے وعدے میں بھی گیا اور ہے اور کے بعد ہیں کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔