جعلی مینڈیٹ سے عوام کا ریاست سے اعتماد اٹھ جائے گا، سید علی رضوی
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
آغا علی رضوی نے کاظم میثم کو مزید ہدایات دیں کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملکر سیاسی حکمت عملی تشکیل دیں۔ ہمارا سیاسی کردار چوبیس حلقوں میں کسی نہ کسی صورت میں ہونا چاہیے۔ اتحادی جماعت تحریک انصاف، اسلامی تحریک، مذہبی جماعتوں، عوامی ایکشن کمیٹی، قوم پرست جماعتوں و دیگر آزاد امیدواروں کے ساتھ ملکر آئندہ کے چینجز سے نمٹنے اور عوامی حقوق کی بازیابی کے لیے اجتماعی جدوجہد کی کوشش کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و سیکرٹری سیاسیات ایم ڈبلیو ایم جی بی کاظم میثم نے کراچی میں صدر ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان آغا علی رضوی سے ملاقات اور عیادت کی۔ اس موقع پر گلگت بلتستان کی مجموعی سیاسی اور تنظیمی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ آغا علی رضوی نے ہدایات دیں کہ صوبائی سیاسی کونسل کے ساتھ ملکر تمام حلقوں میں امیدواروں کا اعلان کرنے کے بعد سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں منتخب حلقوں سے امیدواروں کا اعلان کرنے کے بعد دوسرے مرحلے میں دیگر حلقوں میں امیدواروں کا تعارف کرایا جائے۔ ٹکٹ کا اعلان اور حتمی ایڈجسٹمنٹ ابھی قبل از وقت ہے۔ امیدواروں کو میدان میں اتارتے وقت بنیادی معیارات اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ ہمارا دروازہ ہر کسی کے لیے کھلا رکھیں۔ یہ جماعت محروموں، مظلوموں اور عوامی درد رکھنے والوں کی جماعت ہے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کو مشروط شمولیت کی گنجائش نہ دی جائے۔ نوجوان رہنماوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین کا سیاسی کردار دوسری جماعتوں سے مختلف ہونا چاہیے اور عوام کو واضح کر دینا ضروری ہے کہ ہمارے لیے اقتدار ہدف نہیں بلکہ خدمت، حقوق کے لیے جدوجہد اور اعلیٰ قدروں کا فروغ ہمارا ہدف ہے جبکہ اسمبلی پوزیشن صرف ایک ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام رنگ برنگے نعروں اور کھوکھلے دعوں میں نہیں آئیں گے۔ رجیم چینج کے بعد عوام پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اور جس طرح کے عوام دشمن فیصلے ہوئے اسکا بدلہ لینے کا وقت عوام کے پاس آگیا ہے۔ گلگت بلتستان کے غیرت مند عوام چوبیس حلقوں سے اہل، دیانتدار، جرات مند، عوامی درد رکھنے والے، بابصیرت اور پڑھے لکھے افراد کو اسمبلی میں پہنچائیں گے۔ لسانیت، مسلکیت، برادری اور دولت کے بل بوتے پر سیاست کرنے والوں کا رستہ روکیں گے۔ آغا علی رضوی نے مزید ہدایات دیں کہ تمام جماعتوں کے ساتھ اچھے رابطے رکھیں اور کوشش کریں کہ وفاقی جماعتوں کو الیکشن میں جانے سے قبل ہی گلگت بلتستان اور وفاق کے درمیان مالیاتی اور انتظامی معاہدہ کے لیے قائل ہو۔
سید علی رضوی نے مزید کہا کہ اگر الیکشن سے قبل عوامی مسائل حل کرتے ہیں تو ہم سراہیں گے لیکن وفاقی جماعتوں کے کھوکھلے اعلانات پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ گلگت بلتستان کا سابقہ اڑھائی سال انتہائی مایوس کن اور بدترین دور رہا، اسکی وجہ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ آئندہ کے لیے عوامی مینڈیٹ کی حکمرانی جب تک نہیں ہو گی سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔ اس لیے خطے میں تمام سیاسی جماعتوں اور قوم پرستوں کو لیول پلینگ فیلڈ دینا ضروری ہے ورنہ جعلی مینڈیٹ سے عوام کا ریاست سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ صاف شفاف اور آزادانہ الیکشن کا انعقاد ہی ایسی حکومت کا سبب بنے گا جو آئندہ پانچ سالوں کے لیے خطے کو بحرانوں سے نکالنے، ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کا اہل ہو گا۔ آغا علی رضوی نے کاظم میثم کو مزید ہدایات دیں کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملکر سیاسی حکمت عملی تشکیل دیں۔ ہمارا سیاسی کردار چوبیس حلقوں میں کسی نہ کسی صورت میں ہونا چاہیے۔ اتحادی جماعت تحریک انصاف، اسلامی تحریک، مذہبی جماعتوں، عوامی ایکشن کمیٹی، قوم پرست جماعتوں و دیگر آزاد امیدواروں کے ساتھ ملکر آئندہ کے چینجز سے نمٹنے اور عوامی حقوق کی بازیابی کے لیے اجتماعی جدوجہد کی کوشش کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ متعدد الیکٹیبلز رابطے میں ہیں، اسمبلی میں پہنچنا ہی ہدف نہیں بلکہ سیاسی نظام کی اصلاح اور عوام کے لیے بہترین آپشنز فراہم کرنا، انتخابی معیارات کو قائم کرنا بھی اہم ہے۔ آج گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیو ایم کا کردار سب سے واضح اور اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ ہم نے جس طرح کے نمائندوں کو متعارف کرا رہے ہیں باقی جماعتیں بھی اسی راہ پہ چل پڑے اور پاور پالیٹکس کو ترک کر کے عوامی خدمت کو شعار بنائے تو خطہ بدل سکتا ہے۔ بہت ساروں کے لیے فرسودہ سیاسی نظام ہی آکسیجن فراہم کرتا ہے اگر ریفامز آئے اور سیاسی نظام اعلیٰ قدرروں، اصولوں، کارکردگی، نظریہ، منشور اور فعالیت کی بنیاد پر قائم ہوجائے تو گلگت بلتستان سیاسی جماعتوں کی قبرستان بن جائے گا۔ ہم نے نوجوانوں کے ساتھ ملکر اصلاحات کے لیے، اخلاقی روایات رائج کرنے کے لیے، اہل دیانتدار افراد کو اسمبلی میں پہنچانے کے لیے، عوامی حقوق کی بازیابی اور خطے کی تعمیر و ترقی کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہے۔ وہ وقت دور نہیں کہ سیاسی منظرنامہ یکسر بدل جائے اور دیانتدار جوانوں کے ہاتھوں زمام اقتدار و اختیار آجائے اور خطہ نئے دور میں داخل ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آغا علی رضوی نے ہدایات دیں کہ اتحادی جماعت گلگت بلتستان کے ساتھ ملکر جماعتوں کے اور عوامی اور عوام
پڑھیں:
سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
سٹی 42: گلگت بلتستان انتخابات کے سلسلے میں اسکردو میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پراجیکٹ ہے، جبکہ حقیقی ترقی امیروں کو مزید مراعات دینے کے بجائے غریبوں کو روزگار اور مواقع فراہم کرنے سے ممکن ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینا ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو 18ویں ترمیم جیسے اختیارات دینے کی حامی ہے اور اسلام آباد کو یہاں کے عوام کے حقِ ملکیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ تھر کول منصوبے میں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو دی گئیں، جو ان کی جماعت کے عوام دوست وژن کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان کے دوروں کے حوالے سے وہ دیگر تمام سیاسی رہنماؤں سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکے ہیں۔
خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے ملکی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں شروع ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں غیر ملکی فوجی اڈوں کی موجودگی کا خاتمہ کیا تھا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
سماجی بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں اس پروگرام کے فنڈز میں اضافے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی غریب اور پسماندہ طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگوں کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگوں کے خاتمے اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ امن، جمہوریت اور عوامی حقوق کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور آئندہ بھی عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے ، عوام دوست یا عوام دشمن حکومت بنانی ہے ،ہماری غریب دوست اور ان کی عوام دشمن سیاست ہے ، میں نے سیلاب متاثرہ عوام کے لیے گھر بنا کر دیکھائے ۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیں ،دوسری جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کیسے لوگوں کو بے روز گار کریں ۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کی بدولت آج کوئی بھی ملک پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا اور ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنایا۔
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز
بلاول بھٹو زرداری نے سابق فوجی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں غیر ملکی طاقتوں کو پاکستان کی سرزمین پر اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ایسے تمام اڈوں کو بند کروا کر غیر ملکی افواج کو واپس بھیج دیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان کو ہر شعبے میں مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو ملک کو مزید مستحکم اور عوامی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور اسی سوچ کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے غریب اور مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بی آئی ایس پی اسلام آباد یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا پروگرام ہے، تاہم بعض سیاسی عناصر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ چاہے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوں یا نہ ہوں، وزیراعظم آئندہ بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے،انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی عوامی فلاح، معاشی استحکام اور قومی خودمختاری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔