اتحادیوں سے مل کر ملک کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، راجہ پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کے دوران سابق وزیراعظم نے کہا کہ محترمہ سیاست کا ستارہ تھیں، شہید نے امن کی سیاست کو فروغ دیا، شہید محترمہ ملک میں خوشحالی دیکھنا چاہتی تھیں، شہید محترمہ کی شہادت سے سیاست مین خلاء پیدا ہوا جیسے مشکل تھا پر کرنا، ایسے میں زرداری صاحب نے یہ بیڑا اٹھایا اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں کیساتھ مل بیٹھ کر ملک کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش رہے ہیں، جہاں انتشار ہوتا ہے وہ ترقی نہیں ہوتی، ملک میں ایسی فضا پیدا کرنی ہے جس سے امن و امان ہو۔ سکھر ائیر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کسی جیل بھیجنے کا میرا کوئی مطالبہ نہیں، احتجاج تو ان کا مینو فیکچرنگ فالٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل سے باہر ہوتے ہیں تو بھی احتجاج کرتے ہیں اندر ہوتے ہیں تب بھی احتجاج کرتے ہیں، اڈیالہ کی صورتحال کا حل یہی ہے کہ وہاں اندر صرف بانی قید نہیں دیگر لوگ بھی ہیں، ہمارے صدر نے بھی چودہ سال قید کاٹی ہے، بینظیر بھٹو بچوں کے ساتھ جیل کے باہر بیٹھی ہوتی تھیں، محترمہ نے کبھی ملک خلاف ریاست خلاف بات نہیں کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارہ سال قبل شہید قائد کی شہادت ہوئی، خراج عقیدے پیش کرنے گڑھی خدا بخش آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محترمہ سیاست کا ستارہ تھیں، شہید نے امن کی سیاست کو فروغ دیا، شہید محترمہ ملک میں خوشحالی دیکھنا چاہتی تھیں، شہید محترمہ کی شہادت سے سیاست مین خلاء پیدا ہوا جیسے مشکل تھا پر کرنا، ایسے میں زرداری صاحب نے یہ بیڑا اٹھایا، پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، محترمہ کے قاتل اپنے کیفرکردار تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کیسے پاکستانی ہیں جو باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں، پاکستان کا سوچنا چاہیئے یہ کن ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، ہم نجکاری کے خلاف نہیں ہے مگر ہم لوگوں کو بھی بیروزگار کرنا نہیں چاہتے، پی ٹی آئی حکومت کے وقت ملک غیر یقینی کی کیفیت تھی، اب صورتحال اس سے بہتر ہے، انتشار جمہوریت کی ضد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہیں، میرے تعلقات ن لیگ سے اچھے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید محترمہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔