بھارت میں ریپ کے ملزم بی جے پی رہنما کلدیپ سنگھ کو ضمانت ملنے پر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
بھارت میں دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ایک سابق حکمران جماعت کے قانون ساز کو مشروط ضمانت دیے جانے کے فیصلے کے بعد سیاسی اور سماجی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور دارالحکومت دہلی میں احتجاج بھی ہوا۔
کلدیپ سنگھ سینگر، جو وزیرِاعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سابق رکنِ اسمبلی ہیں، کو دسمبر 2019 میں ایک کم سن بچی سے زیادتی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے حالیہ حکم میں ان کی سزا اس بنیاد پر معطل کر دی کہ وہ 7 سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں، جبکہ ان کی اپیل تاحال زیرِ سماعت ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی ریاست تریپورہ میں خاتون کی نیم جلی لاش برآمد، الزام بی جے پی رکن اسمبلی کے بھتیجے پر عائد
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں جنسی جرائم کے مقدمات، عدالتی عمل اور متاثرین کے تحفظ پر پہلے ہی وسیع بحث جاری ہے۔
اس فیصلے کے بعد جمعے کے روز دہلی ہائی کورٹ کے باہر بڑی تعداد میں افراد جمع ہوئے اور فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے باعث سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے اور علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات رہی۔
تاہم، عدالتی حکم کے باوجود کلدیپ سنگھ سینگر فوری طور پر رہا نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ایک دوسرے مقدمے میں بھی سزا کاٹ رہے ہیں، جو متاثرہ لڑکی کے والد کی پولیس حراست میں ہلاکت سے متعلق ہے۔ اس مقدمے میں انہیں اور دیگر ملزمان کو 10 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور: شہریوں کو ہنی ٹریپ کرنے والا گروہ گرفتار، نقب زن گینگ بھی دھر لیا گیا
یہ کیس ماضی میں اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنا جب متاثرہ لڑکی نے 2018 میں خودسوزی کی کوشش کی، جبکہ بعد ازاں 2019 میں ایک سڑک حادثے میں اس کے 2 رشتہ دار جاں بحق ہو گئے۔ ان واقعات کے بعد سپریم کورٹ نے کیس دہلی منتقل کرنے اور متاثرہ کو سیکیورٹی اور مالی معاوضہ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
دریں اثنا، مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہلی ہائی کورٹ کے ضمانتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا، جس سے اس حساس مقدمے میں قانونی عمل کا نیا مرحلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت خواتین ضمانت گرفتاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت خواتین گرفتاری دہلی ہائی کورٹ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :