اسرائیلی فوجی کی گاڑی سے نماز پڑھتے فلسطینی کو ٹکر، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
مغربی کنارے کے شہر رملہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سڑک کنارے نماز ادا کرنے والے ایک فلسطینی نوجوان کو اسرائیلی فوجی نے جان بوجھ کر گاڑی سے ٹکر مار دی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے اور اس پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایک اسرائیلی ریزرو فوجی نے دانستہ طور پر گاڑی چلا کر فلسطینی نوجوان کو نشانہ بنایا۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی کے کندھے پر رائفل لٹکی ہوئی ہے اور ٹکر لگنے کے بعد فلسطینی نوجوان زمین پر گر جاتا ہے، جبکہ موقع پر موجود دیگر اہلکار اسے وہاں سے ہٹنے کے لیے چیختے ہوئے نظر آتے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق زخمی نوجوان کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ متاثرہ نوجوان کے والد، مجدی ابو مخو نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی دونوں ٹانگوں میں شدید درد ہے، جبکہ واقعے کے دوران فوجی اہلکار نے مرچوں کا اسپرے بھی استعمال کیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں واضح اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 750 سے زائد فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عام شہریوں، خصوصاً عبادت میں مصروف افراد کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔