City 42:
2026-07-24@01:46:47 GMT

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں

اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT

 ویب ڈیسک : سابق وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں۔ 

 ان کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر کراچی میں ادا کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے 2 جنوری 2006ء کو بینک دولت پاکستان کی 14 ویں گورنر کا عہدہ سنبھالا، وہ اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر تھیں۔ انہیں بینکاری کا قومی اور بین الاقوامی وسیع تجربہ حاصل تھا۔ 

مسجدالحرام میں خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا رضا کون نکلا؟

گورنر اسٹیٹ بینک تقرر سے قبل وہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے بطور ڈائریکٹر جنرل، شعبہ جنوب مشرقی ایشیا وابستہ تھیں اور اس عہدے پر جنوری 2004ء سے کام کر رہی تھیں۔ قبل ازیں وہ اس شعبے کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل تھیں۔ وہ ایشیائی ترقیاتی بینک میں ڈائریکٹر، نظم و نسق، مالیات اور تجارت ڈویژن برائے مشرقی اور وسط ایشیا کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔شمشاد اختر نے ایشیائی ترقیاتی بینک میں اپنے کیریئر کا آغاز 1990ء میں کیا اور مالی شعبے میں بطور سینئر اور مرکزی اسپیشلسٹ خدمات انجام دینے کے بعد 1998ء میں وہاں منیجر بن گئیں۔وہ 1998ء سے 2001ء تک ایشیائی ترقیاتی بینک کی کوآرڈی نیٹر برائے اپیک وزرائے خزانہ گروپ بھی رہیں۔

"کلین لاہورمشن" اور"ڈویلپمنٹ پروگرام" پرعملدرآمد تیزی سے جاری 

انہوں نے بینک کی کئی کمیٹیوں میں خدمات انجام دیں جن میں تنظیمِ نو کمیٹی، اپیلز کمیٹی اور نگراں کمیٹی وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف سیکورٹیز کمیشن (آئی او ایس سی او) میں ایشیائی بینک کی طرف سے مکالمہ کیا اور نمائندگی کی۔ 

ڈاکٹر شمشاد نے وسط ایشیائی ریاستوں اور جنوب مشرقی ایشیا بشمول عوامی جمہوریہ چین کے مالی و اقتصادی امور پر وسیع مہارت حاصل کی۔ایشیائی بینک آنے سے قبل شمشاد اختر نے پاکستان میں عالمی بینک کے ریذینٹ مشن کے ساتھ بطور ماہر معاشیات دس سال کام کیا۔ وہ وفاقی اور سندھ حکومت دونوں میں محکمہ منصوبہ بندی کے ساتھ کچھ عرصہ منسلک رہیں۔

محسن نقوی کی ایلیٹ فورس کی تربیت اور رسپانس ٹائم میں مزید بہتری لانے کی ہدایت

انہوں نے مختلف النوع موضوعات پر کام کیے جن میں اقتصادی صورتحال کا تجزیہ، مالیات اور زر، اور صنعت و زراعت سمیت کلیدی شعبوں کی ساختی اصلاحات شامل ہیں۔

انہوں نے ان موضوعات پر مقالات بھی تحریر کیے: پاکستان میں نظام آبکاری، حکومتوں کے مابین مالیاتی تعلقات کی صورتحال، غربت اور اس کی جہتیں، اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، وغیرہ۔ ڈاکٹر شمشاد نے مالی منڈیوں میں تنوع لانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا جن میں زری پالیسی اور صنعت بینکاری کی کیفیت کا تجزیہ )عالمی بینک میں(، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی تشکیل نو، انشورنس کمیشن کی تشکیل نو شامل ہے۔انہوں نے پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج سمیت نجی اداروں کے ساتھ بھی قریب رہ کر کام کیا۔ مالی منڈیوں کی اصلاحات پر وہ مرکزی بینکوں کو مشاورت فراہم کرتی رہی ہیں۔ وہ شعبہ بینکاری کی قانونی، ضوابطی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق رہنے کے علاوہ بانڈ مارکیٹ کے فروغ کے ذریعے طویل مدتی رقوم کے استعمال سے بینکاری صنعت میں تنوع لانے پر بھی مشاورتی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔

انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو سیکنڈ اینول امتحانات کے نتائج کا اعلان 

حیدر آباد میں پیدا ہونے والی شمشاد اختر نے ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی۔ ان کا تعلیمی ریکارڈ شاندار رہا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1974ء میں بی اے اکنامکس، اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی اکنامکس کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف سسیکس سے 1977ء میں ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایم اے، اور برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے 1980ء میں معاشیات میں ڈاکٹریٹ کیا۔ وہ فلبرائٹ اسکالر )پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ( ہیں اور 1987ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں شعبہ معاشیات کی وزٹنگ فیلو رہیں۔

30 دسمبر سے بارشوں کی پیشگوئی

ڈاکٹر شمشاد اختر نے بین الاقوامی کانفرنسوں/ سیمیناروں/ سمپوزیم میں معاشیات اور مالیات پر متعدد مقالات پیش کیے ہیں۔ تحقیق میں ان کی دلچسپی کا خاص میدان زری و مالیاتی پالیسی، بینکاری اور سرمایہ منڈی، بین الاقوامی مالیاتی ساخت، ضوابط اور نگرانی، اور صنعتی و کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے