گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک : سابق وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں۔
ان کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر کراچی میں ادا کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے 2 جنوری 2006ء کو بینک دولت پاکستان کی 14 ویں گورنر کا عہدہ سنبھالا، وہ اسٹیٹ بینک کی پہلی خاتون گورنر تھیں۔ انہیں بینکاری کا قومی اور بین الاقوامی وسیع تجربہ حاصل تھا۔
مسجدالحرام میں خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا رضا کون نکلا؟
گورنر اسٹیٹ بینک تقرر سے قبل وہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے بطور ڈائریکٹر جنرل، شعبہ جنوب مشرقی ایشیا وابستہ تھیں اور اس عہدے پر جنوری 2004ء سے کام کر رہی تھیں۔ قبل ازیں وہ اس شعبے کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل تھیں۔ وہ ایشیائی ترقیاتی بینک میں ڈائریکٹر، نظم و نسق، مالیات اور تجارت ڈویژن برائے مشرقی اور وسط ایشیا کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔شمشاد اختر نے ایشیائی ترقیاتی بینک میں اپنے کیریئر کا آغاز 1990ء میں کیا اور مالی شعبے میں بطور سینئر اور مرکزی اسپیشلسٹ خدمات انجام دینے کے بعد 1998ء میں وہاں منیجر بن گئیں۔وہ 1998ء سے 2001ء تک ایشیائی ترقیاتی بینک کی کوآرڈی نیٹر برائے اپیک وزرائے خزانہ گروپ بھی رہیں۔
"کلین لاہورمشن" اور"ڈویلپمنٹ پروگرام" پرعملدرآمد تیزی سے جاری
انہوں نے بینک کی کئی کمیٹیوں میں خدمات انجام دیں جن میں تنظیمِ نو کمیٹی، اپیلز کمیٹی اور نگراں کمیٹی وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹ اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف سیکورٹیز کمیشن (آئی او ایس سی او) میں ایشیائی بینک کی طرف سے مکالمہ کیا اور نمائندگی کی۔
ڈاکٹر شمشاد نے وسط ایشیائی ریاستوں اور جنوب مشرقی ایشیا بشمول عوامی جمہوریہ چین کے مالی و اقتصادی امور پر وسیع مہارت حاصل کی۔ایشیائی بینک آنے سے قبل شمشاد اختر نے پاکستان میں عالمی بینک کے ریذینٹ مشن کے ساتھ بطور ماہر معاشیات دس سال کام کیا۔ وہ وفاقی اور سندھ حکومت دونوں میں محکمہ منصوبہ بندی کے ساتھ کچھ عرصہ منسلک رہیں۔
محسن نقوی کی ایلیٹ فورس کی تربیت اور رسپانس ٹائم میں مزید بہتری لانے کی ہدایت
انہوں نے مختلف النوع موضوعات پر کام کیے جن میں اقتصادی صورتحال کا تجزیہ، مالیات اور زر، اور صنعت و زراعت سمیت کلیدی شعبوں کی ساختی اصلاحات شامل ہیں۔
انہوں نے ان موضوعات پر مقالات بھی تحریر کیے: پاکستان میں نظام آبکاری، حکومتوں کے مابین مالیاتی تعلقات کی صورتحال، غربت اور اس کی جہتیں، اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری، وغیرہ۔ ڈاکٹر شمشاد نے مالی منڈیوں میں تنوع لانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا جن میں زری پالیسی اور صنعت بینکاری کی کیفیت کا تجزیہ )عالمی بینک میں(، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی تشکیل نو، انشورنس کمیشن کی تشکیل نو شامل ہے۔انہوں نے پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج سمیت نجی اداروں کے ساتھ بھی قریب رہ کر کام کیا۔ مالی منڈیوں کی اصلاحات پر وہ مرکزی بینکوں کو مشاورت فراہم کرتی رہی ہیں۔ وہ شعبہ بینکاری کی قانونی، ضوابطی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق رہنے کے علاوہ بانڈ مارکیٹ کے فروغ کے ذریعے طویل مدتی رقوم کے استعمال سے بینکاری صنعت میں تنوع لانے پر بھی مشاورتی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔
انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو سیکنڈ اینول امتحانات کے نتائج کا اعلان
حیدر آباد میں پیدا ہونے والی شمشاد اختر نے ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی۔ ان کا تعلیمی ریکارڈ شاندار رہا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1974ء میں بی اے اکنامکس، اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی اکنامکس کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف سسیکس سے 1977ء میں ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایم اے، اور برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے 1980ء میں معاشیات میں ڈاکٹریٹ کیا۔ وہ فلبرائٹ اسکالر )پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ( ہیں اور 1987ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں شعبہ معاشیات کی وزٹنگ فیلو رہیں۔
30 دسمبر سے بارشوں کی پیشگوئی
ڈاکٹر شمشاد اختر نے بین الاقوامی کانفرنسوں/ سیمیناروں/ سمپوزیم میں معاشیات اور مالیات پر متعدد مقالات پیش کیے ہیں۔ تحقیق میں ان کی دلچسپی کا خاص میدان زری و مالیاتی پالیسی، بینکاری اور سرمایہ منڈی، بین الاقوامی مالیاتی ساخت، ضوابط اور نگرانی، اور صنعتی و کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔