کوئی ہماری دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو ہمارا چیف ان کو ناکوں چنے چبوا دے گا؛ صدرِ مملکت
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
سٹی 42 : صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مودی کو پتا چل گیا ہے کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے، اللہ نے ہمیں موقع دیا کہ ملک کو فوج کا بہترین چیف دیا ہے، ہمارے چیف نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، مودی شکر کرے کہ اس کا لحاذ کیا ورنہ سارے جہاز گراتے۔
بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ آج کے دن پیپلز پارٹی نے پاکستان کھپے کہہ کر ملک کو بچایا، یہ نعرہ میں نے نہیں بلکہ بے نظیر بھٹو کی روح نے لگایا تھا۔
مسجدالحرام میں خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا رضا کون نکلا؟
آصف علی زرداری نے کہا کہ اللہ نے ہمیں موقع دیا کہ ملک کو فوج کا بہترین چیف دیا ہے، ہمارے چیف نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، مودی شکر کرے کہ اس کا لحاذ کیا ورنہ سارے جہاز گراتے، خود کو 10 گنا بڑا ملک کہتے ہیں لیکن مودی ہمارے آرمی چیف، ایئر فورس چیف اور وزیر اعظم جیسا دل گردہ کہاں سے لائے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی ملک سے لڑنا نہیں چاہتے لیکن کوئی ہمارے گریبان پر ہاتھ ڈالے گا تو ماریں گے، کوئی ہماری دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو ہمارا چیف ان کو ناکوں چنے چبوا دے گا۔
"کلین لاہورمشن" اور"ڈویلپمنٹ پروگرام" پرعملدرآمد تیزی سے جاری
صدرِ مملکت نے کہا کہ ہم اس دن کی تیاری کر کے بیٹھیں گے کہ ہو سکتا ہے کہ کسی سے لڑنا پڑے، ہماری دفاعی طاقت مضبوط نہیں ہوگی تو دشمن میلی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کچھ مسائل ہیں جو آہستہ آہستہ ٹھیک کر رہے ہیں، ایک بے وقوف آدمی نے ساڑھے 4 سال میں پوری دنیا سے ملکی تعلقات خراب کیے اور معیشت تباہ کر دی، ہم نے دنیا سے اپنے تعلقات دوبارہ درست کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔