صومالیہ نے اسرائیل کے صومالی لینڈ تسلیم کرنے کے اعلان کو مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
صومالیہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے صومالی لینڈ کو خود مختار تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ملک کی خودمختاری اور علاقائی وحدت کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق صومالیہ کی وزارتِ خارجہ نے تمام ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں سے بین الاقوامی قانون کا احترام کرنے، عدم مداخلت اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کی پاسداری کرنے کی اپیل کی ہے۔
صومالی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی فوجی اڈوں یا انتظامات کی اجازت نہیں دے گا جو ملک کو پراکسی جنگوں میں دھکیلیں یا خطے میں دشمنانہ سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ وزارت نے اسرائیل کے اعلان کو دانستہ حملہ اور غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
بیان میں زور دیا گیا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کی خودمختار سرزمین کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور کسی بھی بیرونی فریق کو اس کی وحدت یا علاقائی ساخت تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ صومالیہ کے آئینی اور حکومتی معاملات صرف قانونی، آئینی اور پرامن ذرائع سے ہی حل کیے جا سکتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر کسی بھی یکطرفہ اقدام کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
صومالی حکومت نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے غیر قانونی اقدامات خطے میں امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن، مشرقِ وسطیٰ اور افریقا کے دیگر حصوں میں سیاسی اور سیکیورٹی کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایسے اقدامات دہشت گرد گروہوں جیسے الشباب اور داعش کے لیے سیاسی عدم استحکام کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں اور جاری امن و سلامتی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اُدھر مصری وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ مصر، صومالیہ، جبیوتی اور ترکیہ نے صومالیہ کی وحدت کے منافی کسی بھی متوازی ڈھانچے کو مسترد کر دیا ہے۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ٹیلی فونک رابطوں میں اسرائیل کے اقدام کی مذمت کی اور صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل صومالیہ کی سکتے ہیں کسی بھی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔