حکومت کا عادل فاروق راجا پر پابندی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
وفاقی حکومت نے عادل فاروق راجا پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی جانب سے داخلہ ڈویژن کی سرکولیشن سمری کی منظوری کے بعد کیا گیا۔
حکام کے مطابق عادل فاروق راجا پر پابندی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 11 ڈبل اے کے تحت لگائی گئی ہے، جس کا اطلاق ان افراد یا عناصر پر کیا جاتا ہے جن کی سرگرمیاں ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جائیں۔
وفاقی کابینہ نے اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ سات دن کے اندر عملدرآمد رپورٹ کابینہ ڈویژن کو جمع کرائی جائے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جبکہ پابندی سے متعلق مزید قانونی کارروائیاں بھی طے شدہ طریقہ کار کے تحت آگے بڑھائی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔