Jasarat News:
2026-07-24@01:38:53 GMT

منظم طریقے سے میرے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر(نمائندہ جسارت )یونین کونسل 9 نیو گوٹھ کے چیئرمین ذاکر بندھانی نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ان کے خلاف منظم پروپیگنڈہ، احتجاجی مظاہروں اور سوشل میڈیا مہم کے ذریعے بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،جس کا مقصد عوامی فلاح و بہبود کے لیے مختص یو سی فنڈز سے ذاتی مفادات حاصل کرنا ہے، تاہم وہ کسی صورت عوام کے پیسوں کا غلط استعمال نہیں ہونے دیں گے۔چیئرمین ذاکر بندھانی نے بتایا کہ ایک جنرل کونسلر، جو پہلے کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے، پانچ لاکھ روپے کا بجلی کا بل آنے کے باعث مکان خالی کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ یو سی فنڈز میں سے غیرقانونی طور پر رقم فراہم کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فنڈز عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے جنرل کونسلر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ وارڈ میں کوئی کام نہیں ہو رہا، نہ پانی کا مسئلہ حل کیا جا رہا ہے اور نہ صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام موجود ہے۔ ذاکر بندھانی کے مطابق وہ خود متعلقہ وارڈ کا دورہ کر چکے ہیں،جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا ہے اور متعلقہ عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ عوام کو درپیش مسائل کے فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔پانی کے کم پریشر سے متعلق الزام پر چیئرمین نے وضاحت کی کہ پانی کا پریشر ان کے براہِ راست اختیار میں نہیں اور اس کا ترقیاتی کاموں سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا اس مسئلے کو بنیاد بنا کر ان پر الزام تراشی محض بلیک میلنگ کا ایک طریقہ ہے۔چیئرمین ذاکر بندھانی نے اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی سکھر کی قیادت سے اپیل کی کہ ایسے عناصر کو لگام دی جائے جو ذاتی مفادات کے لیے عوامی نمائندوں اور اداروں کو بدنام کر رہے ہیں، تاکہ انہیں اپنی یونین کونسل کی عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود کے لیے یکسو ہو کر کام کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ الحمدللہ یونین کونسل 9 کی باشعور عوام، وائس چیئرمین اور اکثریتی کونسلرز ان کے ساتھ ہیں۔ یو سی میں اب تک جتنے بھی ترقیاتی کام مکمل ہوئے ہیں یا جاری ہیں، وہ تمام شفاف طریقے سے یو سی فنڈز کے ذریعے ممکن بنائے گئے ہیں۔اس حوالے سے چیئرمین ذاکر بندھانی نے میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ میئر سکھر نے یونین کونسل میں باقی رہ جانے والے ترقیاتی کاموں، بالخصوص گلیوں کی بہتری اور پانی کے مسائل کے حل کے لیے جلد اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق میئر سکھر کی قیادت میں شہر بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور یو سی 9 میں بھی ان شاء اللہ بہت جلد عوام کو واضح بہتری نظر آئیگی۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیئرمین ذاکر بندھانی نے یونین کونسل ترقیاتی کام کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف